110

*انتخاب ،،، نجیب عاطف* جب بھی پنجاب کے جائز حقوق کی بات کرتا ہوں تو نا سمجھ دوست کہتے ہیں آپ قوم پرست بن کر نہ سوچیں وفاق پاکستان کی بات کریں.

*انتخاب ،،، نجیب عاطف*

جب بھی پنجاب کے جائز حقوق کی بات کرتا ہوں تو نا سمجھ دوست کہتے ہیں آپ قوم پرست بن کر نہ سوچیں وفاق پاکستان کی بات کریں.
بھائی میں علی وزیر وغیرہ جیسا قوم پرست کہاں ہوں جو پنڈی میں کھڑا ہو کر کہے کہ پنڈی اور پوٹھوہار بھی پشتونوں کا ہے؟
کیا میں نے کبھی کسی صوبے کی ڈیموگرافی بدلنے کی بات کی؟ کیا میں نے کبھی کہا کہ 1901 تک پشاور بھی پنجاب تھا؟ کیا میں نے کبھی ہری سنگھ نلوا کے نام پر رکھے گئے شہر ہری پور کو پنجاب میں واپس شامل کروانے کا کہا؟ کون نہیں جانتا کہ یہ سب علاقے تاریخی طور پر پنجاب کا حصہ رہے ہیں؟
مگر میں ماضی اور تخلیق پاکستان سے پہلے کی بات نہیں کرتا. میں تو ہمیشہ انیس سو چالیس کی قرادادوں کے مطابق وفاق پاکستان کی چار بنیادی اکائیوں کی بات کرتا ہوں.
میں ویسا قوم پرست کب ہوں جو کسی دوسرے صوبے کسی دوسری دھرتی کی تقسیم کو اپنا مشن قرار دے؟
خدا کو مانتے ہیں تو کچھ خدا خوفی بھی کر لیا کریں. اپنے حق کی بات کرنا کہاں سے قوم پرستی ہوگئی؟ بنیادی ترین حقوق کی بات بنیادی ترین سطح پر کرنا کہاں سے قوم پرستی اور شاونسٹ اپروچ ہوگئی؟
کیا آپ نے “اول خویش بعد درویش” کی مثال نہیں سن رکھی؟ میرا پہلا خویش میرے گھر کی دیوار کے ساتھ رہتا ہے. پھر میرے گاؤں میرے شہر حلقہ تحصیل صوبے کے لوگ میرے خویش ہیں. میں صوبے سے نکلتا ہوں تو میرے ملک کے لوگ میرے خویش ہیں.
معذرت کے ساتھ جو لوگ پاکستان کے اپنے گھمبیر مسائل اور مظلومین کو چھوڑ کر محض فلسطین اور کشمیر کی بات کرتے ہیں مجھے تو وہ بھی محض ڈھونگی لگتے ہیں.
بتائیے کوئی بھی ذی شعور بندہ اپنے حلقہ کے لوگوں کے حق حقوق کو نظرانداز کر کے دور بیٹھے لوگوں کے حقوق کی بات کیسے کر سکتا ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ جو مطالعہ پاکستان لوگوں کو ملک سے محبت کا درس دیتی ہے وہی لوگوں کو سکھا رہی ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے گھر اپنے ہمسائے اپنے محلے دار شہر دار یا گاؤں والے یا اپنے زمین زاد دھرتی واسی کی بات نہیں کرنی. آپ نے صرف پاکستان کی بات کرنی ہے.
یہ اسی تضادات سے بھرپور مصنوعی سوچ کا نتیجہ ہے کہ جب آپ کشمیر ڈے مناتے ہیں تو آپ کو میونسپل کمیٹی کے عملے اور انگلیوں پر گنے جانے والے چند مذہبی پراکسی جہادی لوگوں کے سوا کوئی کشمیر ڈے مناتا نظر نہیں آتا. معافی چاہتا ہوں اس طرح کے مصنوعی بیانیوں کے بعد اب تو حالات یہ ہو چکے کہ چودہ اگست کے جھنڈے بھی سبسڈی پر دے کر منوانی پڑ گئی.
حیرت ہوتی ہے جب غالب اکثریت کو بنیادی دانش اور کامن سینس سے محروم دیکھتا ہوں. آپ کی شناخت گھر سے باہر کی طرف جاتی ہے نہ کہ باہر سے گھر کی طرف آتی ہے. یہ عین فطرت ہے. اس کے برعکس نصابی کتب میں پیش کیے جانے والے تضادات سے بھرے تصورات فطرت سے متصادم نظر آتے ہیں. وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ ہماری قوم نہیں بلکہ عربی ایرانی فلسطینی ہماری قوم ہیں. یہ الگ بات کہ دنیا میں ہمارے علاوہ کوئی قوم مذہبی بنیادوں پر ہمیں اپنی قوم کا حصہ نہیں سمجھتی.
ہماری اکثریت نے پچھتر سال اسی طرح کے غیر فطری تصورات کی نظر کر دیے. ہمیں انقلابی بھی ماسکو سے متاثر ملے.
لیکن اب نئی نسل میں کہیں کہیں دیے ٹمٹمانے لگے ہیں. حقیقت پسندوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے.
بس ایک دعا ہے کہ برسوں جھوٹ فریب سے دبائے گئے لوگ بے شعور تعلیمات کے ردعمل دیوں کی بجائے کہیں کوئی آتش فشاں نہ پھٹ پڑے.
اپنے ہمسائے شہر حلقے تحصیل ضلع اور صوبے کی بات کرنا نہ صرف میرا حق ہے بلکہ یہ مجھ پر میری جنم بھومی کا قرض بھی ہے. اور پھر جب سب اپنے اپنے لوگوں اور صوبوں کی بات کر رہے ہیں تو ہم پنجابی اپنے صوبے اور اس میں بسنے والی لوگوں کی بات کیوں نہیں کر سکتے؟
میں پہلے پنجابی ہوں پھر پاکستانی ہوں. یہی فطرت کا اصول ہے اور ہم پنجابیوں کے سوا سندھی بلوچ پشتون سب اسی اصول کے تحت اپنی اقوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں. مگر افسوس کہ یہ بات ہمارے پنجابی جیالوں کی اکثریت ابھی تک سمجھ نہیں پا رہی.
معذرت کے ساتھ پیپلزپارٹی کے گروپس میں چند افراد کو نکال کر کبھی کبھی احساس ہونے لگتا ہے کہ جیسے اس جماعت میں ایک بھی پنجابی نہیں ہے. جب میں اپنی قوم اور دھرتی کا مقدمہ لڑتا ہوں تو میرے اپنے ہی مجھے چپ کروانے اور میرے مقدمہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے آگے بڑھ کر کہتے ہیں “بھائی ہم بھی پنجابی ہیں”. مگر کیا کوئی بنا کچھ کیے زمین زاد اور دھرتی کا بیٹا ہونے کا دعویدار ہو سکتا ہے؟ کیا ماں دھرتی اُسے اپنا بیٹا مان لے گی جس نے کبھی اس کے حق حقوق کی بات نہیں کی؟ جس نے کبھی ایک سو بہتر سال سے اس گونگی ماں دھرتی کی زبان واپس دینے کے لیے آواز بلند نہیں کی؟ اور وہ بھی ایسی صورت کہ جہاں سندھ میں سندھی سرکاری دفتری زبان ہے؟
وہاں مرسوں مرسوں سندھ نہ دیسوں کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور یہاں گھنسوں گھنسوں کے نعرے سپورٹ کیے جاتے ہیں. مرسوں مرسوں اور گھنسوں گھنسوں بھی اپنی جگہ کھلا تضاد ہیں.
ایک طرف آپ حق کی بات کرنے پر اپنی شناخت کی بات کرنے پر پنجابی ذبان کی بات کرنے پر صوبائیت کا لیبل اور لسانیت کا طعنہ دیتے ہو دوسری طرف آپ مرسوں مرسوں سندھ نہ دیسوں کو بھی درست جانتے ہو اور لسانیت کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم کے بھی حامی ہو.
پنجابی زبان کا ایک خوبصورت لفظ ہے “نیاں” مطلب انصاف. تے ویر سجنوں تھوڑا نیاں کریا کرو. پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے. پنجابی یوتھ وہ یوتھ نہیں جو آج سے تیس چالیس برس یا اس سے بھی پہلے سپین کے الحمرا پیلس سامنے کھڑے ہو کر رونے والے حکیم آل آمت سے متاثرہ یوتھ تھی.
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے. ہمارا نوجوان سب دیکھ رہا ہے. اور اس کا قومی سیاسی شعور دن بہ دن بڑھ رہا ہے. آج بڑے بھائی والا مطالعہ پاکستانی چورن بھی اب بکنا ممکن نہیں رہا.
میری چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری سے درخواست ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے فیصلے سندھ اور جنوبی پنجاب کے سرائیکی تحریک والے یا کراچی کے لوگ نہ کریں. ان کے فیصلوں کارن بھی پیپلز بتدریج وسطی پنجاب سے آؤٹ ہوئی ہے. یہ حق ہم پنجابیوں کا جمہوری حق ہے. ہم کسی بھی دوسری قوم کی طرح مظلوم اور محکوم ہیں. ہماری محکومیت ختم کی جائے. پیپلزپارٹی سندھ کی طرح پیپلزپارٹی پنجاب کے فیصلے ہم پنجابیوں کو ہی کرنے دیے جائیں تاکہ ہم شہید بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھا سکیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کو اس کی جنم بھومی میں پھر سے مقبول کر سکیں.
ہم جانتے ہیں کہ پنجاب کی تقسیم پر نون لیگ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ سمیت سب سیاسی جماعتیں متفق ہیں. اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حتمی فیصلہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی کرنا ہے. اور پنجاب تقسیم ہوتا ہے تو پھر دیوار پر لکھا ہے کہ اس کے ایجنڈے پر صرف پنجاب کی تقسیم نہیں ہوگی. پھر سندھ بلوچستان پختون خواہ سب تقسیم ہوں گے. ہم جانتے ہیں کہ نہ ہم یہ تقسیم روک سکتے ہیں نہ کروا سکتے ہیں.
جناب چئیرمین صاحب آپ شہید بھٹو کے نواسے اور شہید بے نظیر بھٹو جیسی عظیم بین الاقوامی لیڈر کے صاحبزادے ہیں. ہم آپ کو سندھ اور جنوبی پنجاب تک محدود نہیں دیکھنا چاہتے. ہم آپ کو سندھ کا نہیں وادی سندھ کا لیڈر دیکھنا چاہتے ہیں. !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں