October 28, 2026

ٹھٹھہ (ڈر): سمندر کے پانی کو روکنے کے لیے بننے والے کوسٹل ہائی وے منصوبے میں من مانی تبدیلیاں، مقامی رہائشیوں کی سینکڑوں ایکڑ زمین ہتھیانے کے لیے روڈ کا رخ لوگوں کی ذاتی زمینوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ خبر کے مطابق، دھابیجی مارکیٹ کے

20241018_191017

ٹھٹھہ (ڈر):

سمندر کے پانی کو روکنے کے لیے بننے والے کوسٹل ہائی وے منصوبے میں من مانی تبدیلیاں، مقامی رہائشیوں کی سینکڑوں ایکڑ زمین ہتھیانے کے لیے روڈ کا رخ لوگوں کی ذاتی زمینوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ خبر کے مطابق، دھابیجی مارکیٹ کے قریب نیشنل ہائی وے سے کیٹی بندر تک بننے والا کوسٹل ہائی وے روڈ جو کہ سندھ حکومت کا منصوبہ ہے، اس کے بننے سے پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے لاکھوں ایکڑ زمین سمندر کی تباہی سے بچ سکتی ہے، اور انسانی آبادی، ان کے گاؤں اور سندھ کا ڈیلٹا بھی محفوظ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا نتیجہ بالکل برعکس نکلا ہے۔ بڑی ہوشیاری سے اس روڈ کا رخ سمندری زمین سے موڑ کر مقامی لوگوں کی ذاتی زمینوں کی طرف کر دیا گیا ہے، جس کی تعمیر سے غریب لوگوں کی کافی زمینیں سمندر کے حوالے ہو جائیں گی۔

ملنے والی معلومات کے مطابق، کوسٹل ہائی وے روڈ کا کام اس وقت یوسی کھگھان کے قریب جاری ہے، اور یہ روڈ سمندر کی طرف جانے کے بجائے لوگوں کی سروی شدہ زمین کے درمیان سے بنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے یوسی کھگھان کے گاؤں کالا خان کلوئی کے رہائشی، سماجی کارکن اور زمیندار ممتاز علی کلوئی نے میڈیا کے سامنے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اگر روڈ کا رخ جنوب کی طرف نہ کیا گیا تو میری ذاتی آبائی زمین سمیت کلوئی برادری اور دیگر کی سینکڑوں ایکڑ زمین سمندر کے حوالے ہو جائے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، ایم این اے صادق علی میمن، یوسی کھگھان کے ضلع ممبر عبدالغنی بگھیاڑ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ روڈ کا رخ سمندر کی طرف موڑ دیا جائے تاکہ ہماری سروی شدہ زمینیں بچ سکیں۔