October 28, 2026

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار کون؟ اکثر اور بیشتر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ حب میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں پولیس مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

IMG-20241020-WA0100

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی ذمہ دار کون؟
اکثر اور بیشتر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ حب میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں پولیس مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کبھی ان چیزوں کو لوگ نہیں دیکھتے، جس کی وجہ سے پولیس بھی مجبور ہے۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے؟
آئے روز حب میں وی آئی پیز کی آمد اور ان کی سیکورٹی کی دیکھ بھال کا کام بھی پولیس کے ذمہ لگا دی گئی ہے۔
پانچ تھانوں میں پولیس کی مجموعی نفری 200 یا 250 کے قریب ہے۔
جبکہ جس دن کوئی وزیر یا مشیر حب آتا ہے تو پوری پولیس کو اس کی سیکیورٹی پر لگائی جاتی ہے۔
اگر پولیس والے سیکیورٹی گارڈ کی فرائض سر انجام نہ دے تو دوسرے روز ان کا ٹرانسفر اور پوسٹنگ دور دراز کی ڈسٹرکٹوں میں کیا جاتا ہے۔
اگر سوال اٹھانا ہے تو اس بات پر اٹھائیں کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو صرف اور صرف عوام کی جان اور مال کی تحفظ کے لیے تعینات کیا جائے۔
نہ کہ کسی مشیر کی دربار پر حاضری لگانے کے لیے۔
یہاں اگر کسی منسٹر یا مشیر کا کام صرف اور صرف اپنے محکمہ ہے کہ اوپر نظر رکھنا ہے۔
لیکن بلوچستان میں بدقسمتی سے محکمہ داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کے علاوہ ایک عام بندہ بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اعلی سطح کے اجلاس طلب کر لیتا ہے۔
اور حب کے تمام باشعور عوام بھی اس طرح کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں ایک سوال کرنے کو بھی فرض نہیں سمجھتے کہ جناب آپ تو پبلک ہیلتھ کے مشیر ہو یا فلانا فلانا کے مشیر ہو،
آپ کا کیا کام ہمارے محافظوں کے ساتھ جن کو ہماری ٹیکس کے پیسوں سے آپ لوگوں نے ہمارے جان اور مال کی تحفظ کے لیے تعینات کیا ہے۔ اور اس کا اپنا محکمہ ہے۔
آپ ان کی اجلاس کو ان پر چھوڑ دیں آپ اپنی ڈیپارٹمنٹ کے کارکردگی پر نظر ڈالیں۔
آپ کی اپنی ڈیپارٹمنٹ نے یہاں پر کتنی گند پھیلائی ہے آب پہلے تو اسی صاف کریں۔
جب ہمارے عوام کو یہ سمجھ آئے گی کہ چاہے، جس محکمہ میں کا جو بھی افسر ہو وہ عوام کے خادم ہیں اور عوام کی ٹیکس کی پیسوں سے تنخواہ لیتا ہے۔
عوام ان کی خادم اور غلام نہیں ہیں۔ تو پھر میرے خیال سے تمام تر کام بہتر ہوں گے۔
ہمارے یہاں ایک ڈپٹی کمشنر عام آدمی کو گھنٹوں ذلیل کر کے ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
ہم ان سے کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ جناب آپ تو ہمارے ٹیکس کی پیسوں سے تنخواہ لے رہے ہو آپ تو ہمارے خادم ہو ہم تو آپ کے خادم نہیں ہیں۔
ہمیشہ پولیس کے علاوہ دوسرے محکموں پر بھی ایک نظر ڈالا جائے تو بہتر ہوگا۔