دل کی بات خ ح شہزاد پاکستان مرکز نگاہ پھر سے۔یا اللہ خیر جہاں دنیا ایک سال سے اسرائیل اور فلسطین جنگ کو دیکھ رھی ھے اور اسرائیل کے مظالم پر اقوام محتدہ سمیت کوئی ادارہ کوئی ملک اسرائیل کو نہیں روک سکا۔اقوام متحدہ بہی ایک مردہ گھوڑا ثابت ھوئی۔جو صرف آج تک
دل کی بات
خ ح شہزاد
پاکستان مرکز نگاہ پھر سے۔یا اللہ خیر
جہاں دنیا ایک سال سے اسرائیل اور فلسطین جنگ کو دیکھ رھی ھے اور اسرائیل کے مظالم پر اقوام محتدہ سمیت کوئی ادارہ کوئی ملک اسرائیل کو نہیں روک سکا۔اقوام متحدہ بہی ایک مردہ گھوڑا ثابت ھوئی۔جو صرف آج تک مسلمانوں کے قتل عام میں معاونت کرطی رھی ھے۔عراق شام لیبیا۔افغانستان وغیرہ میں لاکھوں مسلمان اقوام محتدہ کی چھتری تلے قتل کیے گے۔خیر یہ حق وباطل کا سلسلہ چلتا رھے گا۔مسلمان کیونکہ اس وقت جہاد سے منہ موڑ چکے ھیں اس لیے قابل رحم زندگی گزار رھے ھیں۔جب بھی جہاد کا جزبہ بیدار ھوگیا ان شاء اللہ زوال ختم ھوجائے گا۔موجودہ حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف جارھے ھیں۔ابھی پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ھورھا ھے اور وفود پاکستان پنچنا شروع ھوگے ھیں ۔انکو خوش آمدید کہتے ھیں۔ساتھ ھی اس اھم ترین اکنامک اجلاس کے موقع پر ایران پر اسرائیل کے حملے کے امکانات بھی موجود ھیں۔اور اس سارے ایونٹ کو سبوثاز کرسکتا ھے۔میڈیا جو اس وقت پاکستان پر نظریں جمائے بیھٹا ھے۔حملے کی صورت میں سب کچھ الٹ ھوجائے گا اور یہ اھم ترین کانفرنس ثانوی حیثیت اختیار کرلے گی۔خیر پاکستان کے سیاسی ابتر حالات کے باوجود پاکستان کا اھم ترین ایونٹ کا انعقاد کرکے پاکستان کی معاشی مشکلات کو کافی حد تک کنٹرول کر سکے گی اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ نئے معاہدے اور سی پیک پر کام کی تیزی سے معاشی معاملات بہتر ھونے کی امید ھے۔سعودی وفد بھی چکر لگا چکا ھے اور انڈونیشیا کے وزیر اعظم بھی دورہ کرچکے ھیں۔بھارتی وزیر خارجہ کانفرنس میں شرکت کرے گا۔۔یقنا پاکستان کو اس کانفرنس سے کافی مدد ملے گی۔اور ڈیفالٹ کی گردان پڑھنے والوں کے بدبودار منہ بھی بند ھوجاھیں گے۔اس وقت سیاسی انتشار روکنے کی ضرورت ھے۔امید ھے کانفرنس کے دوران کوئی بد مزدگی نہیں ھوگی۔سارے سیاسی سوچ رکھنے والے باخوبی جانتے ہیں کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا ایونٹ نہیں بلکہ پاکستان کا ایونٹ ھے۔اور ہر پاکستانی کو اس کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاھے۔۔ایران پر حملے کی صورت میں بھی محتاط رھنا یڑے گا۔جہاں ایرانی بھائیوں کی مدد کی ضرورت ھوگی وھاں ہوش کے ساتھ فیصلے بھی کرنے ھوں گے۔اسرائیل کا توڑ افغانستان۔ایران پاکستان ترکی وغیرہ کو ملکر کوئی قدم اٹھانا چاھے اکیلا کوئی بھی ملک اس وقت بدمست ہاتھی اسرائیل اور امریکہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔اتحآد میں برکت ھوگی۔اور ان شاءاللہ اللہ کی مدد سے مسلمانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی ضرور نمودار ھوگا اور یہ ظلم وستم کا حساب لے گا۔