عمرکوٹ (13-10-2024) سماجی تنظیم سپارک کی جانب سے چائلڈ لیبر، مزدوروں اور چائلڈ لیبر کے حوالے سے حکومتی سطح پر تشکیل دی گئی ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی پر مشتمل سرکاری عملداروں کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا
عمرکوٹ (13-10-2024) سماجی تنظیم سپارک کی جانب سے چائلڈ لیبر، مزدوروں اور چائلڈ لیبر کے حوالے سے حکومتی سطح پر تشکیل دی گئی ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی پر مشتمل سرکاری عملداروں کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں محکمہ ریونیو، محکمہ تعلیم، محکمہ سماجی بہبود، پولیس حکام، محکمہ محنت، سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی، میونسپل کمیٹی کے عہدیداران، سندھ انوائرمنٹ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداران، بار ایسوسی ایشن، مختلف این جی اوز کے نمائندوں، اینٹوں کے بھٹوں کے مالکان اور باٹھہ مزدور یونین کے نمائندوں نے شرکت کی، اس موقع پر اے ڈی سی ون جاوید احمد ڈاہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ضلع عمرکوٹ کے تمام باٹھوں کا سروے کرنے جا رہے ہیں تاکہ ان کے اعدادوشمار کا پتہ چل سکے اس تربیتی ورکشاپ میں بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے، اس موقع پر اسپارک کے ریجنل منیجر ایڈووکیٹ کاشف بجیر نے کہا کہ ہم ان سب کے ساتھ انسانوں کی طرح سلوک کریں گے اور انہیں سماجی تحفظ کے بارے میں تربیت بھی دی گئی ہے، جس میں انہوں نے مزدوری کے قوانین کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہ کیا تاکہ سال کے آخر میں قائم ہونے والی ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ کی مشاورت سے کوششیں کی جائیں گی، ملازمین کو بحال کرنے اور ان کی بنیادی سہولیات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہیں، اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لچھمن داس کا کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے تمام بٹا مزدوروں کو مکمل صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اس موقع پر محکمہ تعلیم عمرکوٹ کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری بشیر احمد کوسو نے کہا کہ بٹھوں پر کام کرنے والے بچوں کی سروی کرنے کی اشد ضرورت ہے، محکمہ لیبر کے ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر گلزار احمد نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کا سروے کرنے کی اشد ضرورت ہے، اینٹوں کے بھٹوں کے مالکان کو ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے زگ زیگ فارمولے کے تحت کام کرنا چاہیے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے، اس موقع پر بار ایسوسیشن، میڈیا کے نمائندوں، این جی او کے نمائندوں اور دیگر سرکاری عملداروں نے بھی خطاب کیا، آخر میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو منتخب کیا گیا، جس میں مختلف سرکاری افسران نے اپنے اپنے ایکشن پلان بنائے جن پر اداروں کے ساتھ مل کر مزدوروں کی بحالی کے لیے فالو اپ کیا جائے گا۔