ہم کب کھڑے ہوں گے؟ تحریر: شجاع الدین شیخ
ہم کب کھڑے ہوں گے؟
تحریر: شجاع الدین شیخ
گزشتہ دنوں پشاور میں منعقدہ رحمۃ للعالمین (ﷺ) کانفرنس میں قائم مقام افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ اور ان کے ساتھی پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہو ئے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے قائم مقام قونصل جنرل افغانستان کی جانب سے قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کی شدید مذمت کی، ان کےاس فعل کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور اپنا احتجاج کابل میں افغان حکام تک پہنچایا۔ اس کے جواب میں پشاور میں افغان قونصل خانے کے ترجمان نےوضاحت دی کہ پاکستان یا قومی ترانے کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہمیں پاکستان کے قومی ترانے کی بے توقیری ہرگز مطلوب نہیں تھی ،قائم مقام قونصل جنرل ترانے میں موسیقی کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ گویاترانہ اگر بغیر موسیقی پڑھا جاتا تووہ کھڑے ہوسکتے تھے! سرکاری سطح پر اس ’’عذرِ گناہ‘‘ کو تسلیم کر لیا گیا لیکن بعض دانشورانِ قوم کے نزدیک تو یہ عذربدتر از گناہ تھا، اس لئے انہوں نے افغانستان سے سفارتی تعلقات فوری طور ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں بدنیتی سے کھڑے نہ ہونے کی دلیل میں ایران کے قومی ترانے کے دوران بھی افغان نمائندے کے کھڑے نہ ہونے کی تصویر کئی جگہ پر شائع ہوئی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔حالانکہ اس سے افغان قونصل خانے کے ترجمان کی وضاحت کی توثیق ہورہی تھی۔قارئین ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دہائیوں پہلے جب بانی تنظیم اسلام ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنے ایک درس میں وطن پرستی کے شرک کا ذکر کرتے ہوئے قومی ترانے کے احترام میں کھڑاہونے اور جھنڈے کی سلامی کو ایک قسم کے شرک سے تشبیہ دی تھی اور پھر یومِ اقبال کے حوالے سے لاہورمیں منعقدہ ایک تقریب میں قوامی ترانے کے ’’احترام‘‘ میں کھڑا ہونے سے انکار کر دیا تھا تو اس پران کے خلاف اخبارات میں ایک طوفانِ بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا تھا۔جس کے جواب میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو ایک طویل مضمون اخبارات میں شائع کرنا پڑا تاکہ ان کامافی الضمیر بھی مسلمانانِ پاکستان تک صحیح صحیح پہنچ جائے اور ریکارڈ کی درستگی بھی ہو جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام دینِ توحید ہے اورتوحید کی ضد شرک ہے جو اسلام کی رو سے سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ النساء کی آیات 48 اور 116 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ترجمہ:’’ اللہ اُسے تو ہرگزمعاف نہیں کرے گا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے، البتہ اس سے کم تر گناہ جس کے لیے چاہے گا، معاف کر دے گا ۔‘‘ نبی اکرمﷺکا یہ معمول تھا کہ وہ صحابہ کرام ؓ کو ہر اُس کام سے ٹوک دیا کرتے تھےکہ جس میں ادنیٰ سا بھی شرک کا شائبہ ہو۔ ایک مرتبہ ایک صحابیؓ کی زبان سے نادانستہ طور پر الفاظ نکل گئے ’’جو اللہ چاہے اور جو آپﷺ چاہیں ‘‘اُن صحابیؓ کے ذہن میں تو ادنیٰ درجے کا بھی شرک نہیں تھا مگر آپ ﷺ نے اُنہیں ٹوکتے ہوئے فرمایا؛’’ کیا تم نے مجھے اللہ کا مدِ مقابل بنا دیا ہے؟ لہٰذا صرف یہ کہوکہ جواللہ چاہے ‘‘۔ آنحضور ﷺ کسی بھی مقام پراپنی آمد پر صحابہ کرام کو احتراماً اور تعظیماً کھڑا ہونے سے بھی منع کیا کرتے تھے ۔ قارئین شرک ظاہری کے علاوہ معنوی بھی ہوتا ہے۔اگر کسی بت کو سجدہ کرنا ظاہری شرک ہے تو زر پرستی (یعنی ایسی کیفیت کہ دولت انسان کو اِس قدرعزیز ہو جائے اُس کی وجہ سے انسان احکامات الٰہیہ کوپسِ پُشت ڈال دے اور حلال و حرام کی تمیز ختم کردے ) بھی یقیناً شرک ہی کی ایک قسم ہے۔ ایسے بندے کو ایک حدیث میں (عبدالدینار و عبد الدرہم)دینار اور درہم کا بندہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ معنوی شرک ہوگا۔ اسی طرح ریاکاری بھی ایک طرح کا شرک ہے جس کے ضمن میں آنحضورﷺکاحد درجہ لرزا دینے والا فرمان موجود ہے کہ جس نے دکھاوے کےلئے نماز پڑھی تو گویااُس نے شرک کیا ،جس نے دکھاوے کے لیے خیرات کی اُس نے شرک کیا۔اگرچہ اِسے شرکِ خفی کہا گیا ہے۔ عہدِ جدید کے اجتماعی فلسفوں اور عمرانی نظریات میں سے ایسا ہی ایک شرک ’’وطنیت‘‘ بھی ہے جس پر جدید تصورِ قومیت کی اساس قائم ہے۔ علامہ اقبالؒ نے چونکہ تہذیب ِحاضر کی فکری و فلسفیانہ اساسات کا گہرا مطالعہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ یورپ میں اس کے ثمرات و نتائج کا براہ راست مشاہدہ بھی کیا تھا انہوں نے یورپین فکر میں چھپی شرک کی اس آمیزش کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا ، لہٰذا ببانگ دہل اس کا اعلان بھی فرمایا ؎
اس دور میں مے اور ہے جام اور ہےجم اور
ساقی نے بنا کی روشِ لُطف و ستم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترش وائے صنم اور
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اِس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
علامہ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ نبی کریمﷺ نے جہاں وطن کی محبت کو جزوایمان قرار دیا ہے تو وہاں وطن سے مراد کچھ اور ہے اور جدید عمرانی نظریات میں ’’وطنیت‘‘ کا مفہوم کچھ اور ہے۔؎
گفتارِ سیاست میں وطن اورہی کچھ ہے
فرمان نبوتﷺ میں وطن اور ہی کچھ ہے
غور کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ہر معبود کے لیے ایک نمازہوتی ہے اور ہربت کےلئے ڈنڈوت کی جاتی ہے، جن میں اُس معبود کی عظمت کے گیت گائے جاتے ہیں۔ معبودِ برحق سبحانہ و تعالیٰ کےلیے بھی اُس کا ترانۂ حمد سورۃ الفاتحہ نماز کاجزو لاینفک ہے اور نماز ہی میں قیام اور رکوع و سجود بھی ہیں۔عہدِ حاضر کے مذہب وطنیت میں ’’ وطن دیوتا ‘‘ کےلئےبھی قومی ترانے ایجاد کیے گئے ہیں جس میں اُس کی عظمت و تقدس کے راگ الاپے جاتے ہیں، تعظیماً کھڑے ہونے اور وطن کی عظمت کے نشان کے طور پر قومی پرچم کو سلامی دینے کے مراسم کی طرحِ نو ڈالی گئی ہے ۔ہمارے ہاں اکثرعلماء اکرام قبر پرستی کے خلاف تو اظہار خیال فرماتے ہیں لیکن یہ اہل علم حضرات بھی اس شرک کو نہیں پہچان سکے اور نہ ہی اس نئے دیوتا کے مراسمِ عبودیت کی طرف انکی توجہ ھوئ ھے۔ البتہ یہ بات ضرور سامنے رھنی چاھئے کہ قومی ترانے کے دوران قیام اور قومی پرچم کو سلامی میں شرک کا شائبہ تو موجود ہے مگر نادانستگی یا غیر شعوری طور پر ایسا کرنے والے خواتین و حضرات مشرک ہرگز نہیں ہیں اور اُن کے خلاف شرک کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ حکومت ،دانشورانِ قوم اور میڈیا سے وابستہ افراد سے ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ غور فرمائیں کہ آج امتِ مسلمہ کی موجودہ تباہ حالی کسی سے پوشیدہ نہیں۔اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر گزشتہ 77 سال سے اور خصوصاً پچھلے ایک سال سے جو ظلم ڈھا رہا ہے،اس کی مثال ڈھونڈےسے نہیں ملتی۔اسرائیل کے ان مظالم کے خلاف کسی کو آج تک ’’قیام‘‘ کرنے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی ۔سود کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسولﷺ کے خلاف کھلی جنگ قرار دیا ہے۔ہم میں سے کتنے ہیں جو ملک سےسودی معیشت کے خاتمے کے لیے ’’کھڑے‘‘ہوئے ہیں۔معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حیائی کو روکنے کے لئے آج تک کتنے لوگ ’’کھڑے‘‘ ہوئے ہیں۔ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کتنے لوگ’’کھڑے‘‘ ہوئے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے یا نہ ہونے کی بحثوں سےنکل کرقوم کو باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ کر’’کھڑے‘‘ ہونے کا درس دیا جائے۔