November 2, 2026

سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو تاحال آفر آرڈرز جاری نہ ہو سکے، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ پانچویں روز بھی جاری

IMG-20261101-WA0178

سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو تاحال آفر آرڈرز جاری نہ ہو سکے، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ پانچویں روز بھی جاری

ڈھائی سال سے انتظار کر رہے ہیں، سندھ حکومت نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق فوری فیصلہ کرے، امیدواروں کا مطالبہ؛ مطالبات منظور نہ ہونے پر 4 تاریخ کو سکھر سے کراچی وزیراعلیٰ ہاؤس تک ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ کرنے کا اعلان

سکھر(بیورورپورٹ)سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے تحریری و دیگر مراحل میں کامیابی حاصل کرنے والے SPD-01 کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو تاحال آفر آرڈرز جاری نہ کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ پانچویں روز بھی جاری رہا۔ اس موقع پر امیدواروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ حکومت، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو آفر آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں شریک امیدواروں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر آفر آرڈرز کے اجرا، میرٹ کی پاسداری، بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے مطالبات درج تھے۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت مظفر جوکھیو، وکیل احمد، محمد شہزاد اور دیگر امیدوار کر رہے تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظفر جوکھیو اور دیگر امیدواروں نے کہا کہ انہوں نے 2024ء میں سندھ پولیس کے تحت SPD-01 کانسٹیبل بھرتی کے لیے منعقدہ ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیے تھے، تاہم تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے باوجود انہیں آفر آرڈرز جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث 10 ہزار سے زائد نوجوان اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدوار اپنے حق کے حصول کے لیے سکھر پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج ہیں۔ ان میں سکھر، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، گھوٹکی، بدین، دادو، حیدرآباد، کراچی اور دیگر علاقوں کے نوجوان شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نوجوان تعلیم یافتہ ہیں اور میرٹ کے مطابق بھرتی کے عمل میں شریک ہوئے، اس لیے انہیں مزید انتظار میں رکھنے کے بجائے ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ غریب اور محنت کش خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والدین نے بڑی محنت اور مشکلات کے باوجود انہیں تعلیم دلوائی اور پولیس میں ملازمت کے حصول کے لیے ٹیسٹ کی تیاری کرائی، لیکن طویل عرصے سے آفر آرڈرز جاری نہ ہونے کے باعث ان کے خواب اور مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کا قصور کیا ہے اور انہیں مزید کتنے عرصے تک انتظار کرنا پڑے گا؟امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ سندھ پولیس میں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں اور مختلف اوقات میں پولیس نفری کی کمی سے متعلق حکومتی سطح پر بھی اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس کی خالی آسامیوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، خصوصاً متعلقہ رینج اور اضلاع میں خالی سیٹوں کی تعداد اور ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کی پوزیشن واضح کی جائے، تاکہ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت برقرار رہ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر پولیس میں نفری کی کمی موجود ہے اور امیدوار میرٹ پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں تو انہیں آفر آرڈرز جاری کرنے میں تاخیر کی وجوہات واضح کی جائیں۔ امیدواروں نے بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔احتجاجی امیدواروں نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ویٹنگ امیدواروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کریں اور قواعد و ضوابط کے مطابق اہل امیدواروں کو ان کے آفر آرڈرز جاری کرنے کے لیے اقدامات کریں۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں ایک ہفتے تک سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 4 تاریخ کو سکھر پریس کلب سے کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس تک پیدل لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔ امیدواروں کے مطابق لانگ مارچ میں شریک نوجوان ننگے پاؤں سفر کریں گے اور اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی تک پیدل مارچ کا مقصد سندھ حکومت اور متعلقہ حکام تک اپنی آواز پہنچانا اور اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے پرامن احتجاج کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس کے باوجود ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ سندھ بھر میں وسیع کیا جائے گا۔احتجاجی امیدواروں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو مزید غیر یقینی صورتحال میں نہ رکھا جائے، ویٹنگ لسٹ اور خالی آسامیوں کی تفصیلات جاری کی جائیں اور میرٹ پر پورا اترنے والے تمام اہل امیدواروں کو فوری طور پر آفر آرڈرز جاری کرکے ان کی طویل انتظار کی کیفیت ختم کی جائے۔