روہڑی پولیس پر نوجوان کو بلاجواز گرفتار کرکے مبینہ ہاف فرائی کرنے کا الزام، ابڑو خاندان کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
روہڑی پولیس پر نوجوان کو بلاجواز گرفتار کرکے مبینہ ہاف فرائی کرنے کا الزام، ابڑو خاندان کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
فرمان علی ابڑو کو زخمی حالت میں اسپتال سے گرفتار کرکے تھانے میں رکھنے کا دعویٰ، اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)روہڑی بائی پاس کے رہائشی ابڑو برادری سے تعلق رکھنے والے خاندان نے روہڑی پولیس پر نوجوان فرمان علی ابڑو کو مبینہ طور پر بلاجواز گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور جعلی پولیس مقابلے میں ہاف فرائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، غیر جانب دارانہ اور شفاف انکوائری کرانے، نوجوان کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنے اور اہل خانہ کو انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے میں مسمات اربیلی، مسمات حاجیانی اور مائی ضمیر سمیت دیگر اہل خانہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے پولیس کے مبینہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نوجوان بیٹے فرمان علی ابڑو کو زخمی حالت میں اسپتال سے گرفتار کیا گیا، تاہم گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کرنے کے بجائے مبینہ طور پر روہڑی تھانے میں رکھا گیا ہے، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہے۔احتجاج کرنے والے اہل خانہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرمان علی ابڑو کو گزشتہ روز زخمی حالت میں اسپتال سے روہڑی پولیس نے مبینہ طور پر حراست میں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد نوجوان کو عدالت میں پیش کرکے جیل بھیجنے کے بجائے تھانے میں رکھا گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات اور اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے متعلقہ تھانے کے مسلسل چکر لگا رہے ہیں، لیکن پولیس کی جانب سے انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا جا رہا۔مظاہرین کے مطابق چند روز بعد انہیں اطلاع ملی کہ فرمان علی ابڑو کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہاف فرائی کردیا گیا ہے، جس کے بعد خاندان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی مبینہ کارروائی اور نوجوان کی گرفتاری کے حوالے سے اہل خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جبکہ انہیں اپنے بیٹے کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ مظاہرین نے بتایا کہ انصاف کے حصول کے لیے انہوں نے عدالت میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔اس موقع پر مسمات اربیلی نے کہا کہ ان کے بھائی فرمان علی ابڑو محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ کارروائی کے بعد ان کا خاندان شدید کرب، بے یقینی اور ذہنی اذیت سے دوچار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی کو بلاجواز گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر جھوٹا پولیس مقابلہ ظاہر کرکے ہاف فرائی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو اپنے پیارے کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور انہیں انصاف کے حصول کے لیے دربدر ہونا پڑ رہا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ گھر میں سوگ اور بے چینی کی فضا قائم ہے، جبکہ اہل خانہ اپنے نوجوان کی زندگی اور سلامتی کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر فرمان علی ابڑو کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا یا اس کے اہل خانہ کو اس کی حالت اور موجودگی سے بے خبر رکھنا قابل قبول نہیں۔احتجاج کرنے والے خاندان نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے اپیل کی کہ فرمان علی ابڑو کی گرفتاری اور مبینہ پولیس مقابلے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں انصاف کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کو انسانی ہمدردی، شفاف تحقیقات اور قانون کی بالادستی کے تقاضوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔