November 2, 2026

کیا گناہ بھی اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے؟ ایک عام غلط فہمی کا ازالہ” پیر 02 نومبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-10-31_073448.645

​”کیا گناہ بھی اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے؟ ایک عام غلط فہمی کا ازالہ”

پیر 02 نومبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

معاشرے میں دین سے دوری اور دینی اصطلاحات کے غلط فہم تراجم نے بہت سے ایسے نظریات کو جنم دیا ہے جو انسان کو عمل سے کاہل اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک انتہائی اہم اور نازک مسئلہ تقدیر (قضا و قدر) اور انسان کے اختیار کا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج عامتہ الناس میں دین کا فہم روایتی توہم پرستی اور کمزور توجیہات کی نذر ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ ہر اچھے برے فعل کا ذمہ دار براہِ راست اللہ کی مشیت اور جبر کو ٹھہرا کر خود کو ہر گناہ اور کوتاہی سے بری کر لیتے ہیں۔

* “پتا نہیں ہل سکتا”
ایک عام فہم غلطی اور قرآن کا حقیقی منشا
عوام میں ایک ضرب المثل کی طرح یہ جملہ عام ہے کہ اللہ کی اجازت اور حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہلتا۔

اس جملے سے عام طور پر یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ انسان کا ہر چھوٹا بڑا فعل، یہاں تک کہ اس کا چوری کرنا، ظلم کرنا یا گناہ کرنا بھی اللہ کے جبری حکم اور مرضی سے ہوتا ہے۔

یہ قرآن مجید کی ایک آیت اور اس کے صریح فہم کی شدید غلط ترجمانی ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الانعام (آیت 59) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ علم کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
“اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے، اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے…”
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پتا اس کی اجازت یا جبری حکم کے بغیر نہیں ہلتا، بلکہ یہ فرمایا کہ کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ یہ کائنات کے ذرے ذرے پر اللہ کے احاطۂ علم کا بیان ہے، نہ کہ انسان کو کسی جبر کے تحت مجبور کرنے کا قانون۔ اللہ کا علم ہر شے پر محیط ہے، لیکن علم کبھی جبر نہیں بنتا۔ وہ جانتا ہے کہ بندہ اپنے اختیار سے کیا کرے گا، لیکن وہ کسی کو زبردستی گناہ یا نیکی کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔

* انسان کی آزاد مرضی اور مسئولیت؛
اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان ہر فعل میں مجبورِ محض ہے اور اس کی اپنی کوئی مرضی یا ارادہ نہیں ہے، تو پھر پورا دین، شریعت، اور جزا و سزا کا نظام بے معنی ہو جاتا ہے۔

* اگر انسان گناہ کرتے وقت مجبور تھا، تو پھر اسے چوری یا ظلم کی سزا دینا سراسر ظلم ہو گا (اللہ اس سے پاک ہے)۔

* عدالتیں، پولیس، عدالتِ عدل، اور روزِ قیامت کا حساب کتاب سبھی اس بات کے گواہ ہیں کہ انسان اپنے ارادے کا مالک ہے۔
قرآن کریم نے بار بار انسان کو اس کے ارادے اور اختیار کا پابند ٹھہرایا ہے:
“اب جو کوئی چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے” (الکہف: 29)۔
انسان کو عقل دی گئی، نیکی اور بدی کا راستہ دکھایا گیا۔ اب وہ خود اپنے پاؤں پر چل کر اچھے یا برے راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ نیکی کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اللہ اپنی توفیق کا نور عطا فرماتا ہے، اور اگر کوئی خود گناہ کی گندگی میں اترنا چاہے تو وہ اپنی بدنیتی اور ارادے کی وجہ سے کرتا ہے۔
* “تقدیر” کے نام پر عمل سے فرار کا رویہ:
ہمارے معاشرے میں المیہ یہ بن چکا ہے کہ جب کوئی شخص جرم یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو وہ فوراً کہتا ہے: قسمت میں یہی تھا، اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا! یہ نظریہ قطعی طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف اور جبریہ فرقے کا مردود نظریہ ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی فیصلہ اس سلسلے میں مشعلِ راہ ہے کہ جب ایک چور نے چوری پر تقدیر کا بہانہ بنایا تو آپ نے فرمایا: اسے کوڑے بھی لگاؤ کیونکہ اس نے چوری کی، اور دوسرا کوڑا اس بات پر لگاؤ کہ اس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا کہ اللہ نے اسے چوری پر مجبور کیا تھا!

نتیجہ اور اصلاحِ فکر
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کائنات کا بے بس پتلا نہیں بنایا بلکہ عقل، شعور، اور اختیار کی امانت دے کر اس زمین پر اپنا خلیفہ اور ذمہ دار بنایا ہے۔

* کامیابی اس میں نہیں ہے کہ انسان ہر ناکامی یا گناہ کا ملبہ تقدیر یا اللہ کی توفیق پر ڈال کر بیٹھ رہے،

* بلکہ کامیابی اس احساس میں ہے کہ انسان اپنی غلطی اور اپنے برے ارادے کا اعتراف کرے، توبہ کرے اور اچھے راستے کو اپنی مرضی سے چنے۔
اگر ہم نے اس غلط فہمی کو دور نہ کیا تو لوگ اللہ پر تکیہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے اور معاشرے سے اخلاقیات اور عمل کا جنازہ نکلتا رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ قرآن مجید کو روایتی توہمات سے ہٹ کر اس کے حقیقی اور روشن تناظر میں سمجھا جائے۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرما:

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333