عقیدہ حاضر و ناظر قرآن مجید کا مؤقف:
عقیدہ حاضر و ناظر
قرآن مجید کا مؤقف:
قرآن مجید کے مطابق ذاتی طور پر ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونا، غیب کا جاننا اور کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہونا صرف اور صرف اللہ تعالی کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ ہر جگہ اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے موجود ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ انبیاء کرام اور اولیاء سمیت تمام مخلوق علم اور وجود کے اعتبار سے محدود ہے، انہیں صرف اتنا ہی علم عطا کیا جاتا ہے جتنا اللہ تعالی بتاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک بشر ہیں اور آپ کو وحی کے ذریعے علم دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالی ہی غیب کا جاننے والا ہے۔
احادیث مبارکہ کا مؤقف:
صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ فرشتگانِ کرام اعمال نامے لے کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے درود و سلام کو فرشتے پہنچاتے ہیں۔ ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں یہ روایت موجود ہے کہ جب ایک صحابی نے عرض کیا کہ ہم دور سے درود و سلام بھیجتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں سیاحت کرتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی روضہ مبارک میں تشریف فرما ہیں اور فرشتے سلام پہنچاتے ہیں، نہ کہ آپ ذاتی طور پر دنیا کے ہر کونے میں ہر وقت حاضر و ناظر ہیں۔
آثار صحابہ اور سلف صالحین:
صحابہ کرام اور تابعین کا عقیدہ یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور وصال کے بعد آپ کا جسم مبارک مدینہ منورہ کے روضہ مطہرہ میں آرام فرما ہے، اور آپ کی روحِ مبارک اعلیٰ علیین میں ہے۔ صحابہ کرام مشکلات میں اللہ تعالی ہی سے دعا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ بناتے تھے، لیکن کسی صحابی یا تابعی نے یہ نہیں کہا کہ آپ ذاتی طور پر دنیا کے ہر گھر یا ہر محفل میں حاضر و ناظر ہیں۔ علمِ الٰہی کے بارے میں ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی ہی حقیقی معنوں میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، اور مخلوق میں سے کسی کو ذاتی طور پر یہ صفت حاصل نہیں۔