*رزق اور عمر میں اضافے کا اسلامی تصور اور اس کے اسباب* جمعرات 8 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*رزق اور عمر میں اضافے کا اسلامی تصور اور اس کے اسباب*
جمعرات 8 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اللہ تعالی نے کائنات کا نظام حکمت کے تحت تشکیل دیا ہے اور ہر شے کی تقدیر مقرر فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رب العزت نے کچھ ایسے ظاہری اور باطنی اسباب بھی مقرر فرمائے ہیں جن کے اپنانے سے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت نصیب ہوتی ہے۔ قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں ان اسباب کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
اول: قرآن مجید کی روشنی میں اسباب رزق و عمر
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صریح احکام اور ضابطے بیان کیے ہیں جن سے انسان کے رزق اور عمر یا عمر کی برکت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
تقوی اور توکل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بناتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔ (الطلاق: 2 تا 3)
استغفار اور توبہ:
رزق اور اولاد کی فراوانی کے لیے استغفار کو ایک زبردست ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ سورۃ نوح میں حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے: ترجمہ: پس میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا، اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے لیے باغ بنائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔ (نوح: 10 تا 13)
شکر گزاری:
نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے رزق میں اضافہ اور دوام ملتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔ (ابراھیم: 7)
دوم: احادیث مبارکہ کی روشنی میں اسباب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث میں ان اعمال کی نشاندہی فرمائی ہے جو رزق اور عمر میں برکت کا سبب بنتے ہیں۔
صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک:
عمر اور رزق میں اضافے کا سب سے مشہور نبوی نسخہ صلہ رحمی ہے۔ حضرت انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر میں تاخیر اور برکت کی جائے، تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
صدقہ و خیرات:
صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اور بلائیں ٹلتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنے بیماروں کا علاج صدقے کے ذریعے کرو، اور صدقہ رزق کے دروازے کھولتا ہے۔
اخلاق حسنہ اور سچائی:
امانت داری، سچائی اور اچھے اخلاق بھی رزق میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ تجارت میں دیانت داری برکت لاتی ہے۔
سوم: آثار صحابہ اور سلف صالحین کے ارشادات
صحابہ کرام اور ائمہ سلف کی زندگیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ نیکی، توبہ، اور دعاؤں کو اپنی زندگی اور رزق کی فراوانی کا ضامن سمجھتے تھے۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں رزق کے اترنے کی فکر نہیں کرتا بلکہ میں اس بات کی فکر کرتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو، کیونکہ جب اللہ کی طرف سے دعا کرنے کی توفیق مل جائے تو رزق اور برکت اس کے ساتھ ہی مقدر ہوتی ہے۔ آپ دعاؤں کے ذریعے اللہ کے حضور رزق اور عافیت کی کشادگی مانگتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان:
آپ فرمایا کرتے تھے کہ انسان گناہ کی وجہ سے اس رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے مقدر ہوتا ہے، اور نیکی اور تقوی اس کے رزق میں برکت کا سبب بنتے ہیں۔
حاصل کلام:
قرآن، احادیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رزق اور عمر میں حقیقی اضافہ اور برکت صرف مادی تدبیروں سے نہیں بلکہ روحانی اسباب سے ہوتی ہے۔ تقوی اختیار کرنا، کثرت سے استغفار کرنا، صلہ رحمی کو برقرار رکھنا، صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا اور سچی دعا مانگنا ایسے مجرب اعمال ہیں جو انسان کی عمر اور رزق میں برکت اور وسعت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
الدعاء
نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی۔(حدیث)
یعنی جب آذان ہو چکی ہو اور اقامت نہ ہوئی ہو۔ یہ وقفہ عین دعا کی مقبولیت کا وقت ہوتا ہے۔
دعا کیجیئے اللہ تعالی آپکی دعا قبول فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333