سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاہین )سکھر میں ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس
سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاہین )سکھر میں ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر غریب اور محنت کش خاندانوں کے خلاف ایک بار پھر آپریشن کی تیاری پر شہریوں اور متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک کے اطراف قائم بڑے پلازوں، عالی شان عمارتوں اور بااثر افراد کی تعمیرات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ غریب لوگوں کے گھروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ’’امیر کا محل سلامت رہے، غریب کی جھونپڑی کیوں جلائی جائے؟‘‘متاثرہ رہائشیوں کے مطابق ڈی ایس ریلوے اور ریلوے پولیس کے اہلکار، آئی ڈبلیو کی سربراہی میں بھاری نفری کے ہمراہ سکھر کے واری تڑ علاقے میں کارروائی کے لیے پہنچے اور وہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے آباد خاندانوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ انہیں کسی قسم کا پیشگی قانونی نوٹس یا مناسب اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس اور بے چینی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔متاثرین نے بتایا کہ وہ تقریباً 50 سال سے مذکورہ علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے گھروں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی موجود ہیں۔ اچانک ممکنہ آپریشن اور گھروں کو مسمار یا خالی کرانے کی کارروائی سے درجنوں خاندانوں کے بے گھر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب محنت کش خاندان اپنی جمع پونجی سے بنائے گئے گھروں میں برسوں سے رہ رہے ہیں، اس لیے کسی بھی کارروائی سے قبل ان کے حالات اور انسانی مشکلات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔رہائشیوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس کی جانب سے ماضی میں بھی کئی مرتبہ غریب لوگوں کے گھروں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور ان کی چھتیں چھیننے کی کوشش کی گئی، تاہم ریلوے اراضی پر قائم مبینہ طور پر بڑی عمارتوں، پلازوں اور بااثر افراد کی تعمیرات کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی دکھائی نہیں دیتی۔متاثرین نے سوال اٹھایا کہ اگر ریلوے کی زمین پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی ضروری ہے تو پھر قانون اور کارروائی کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ ریلوے ٹریک اور زمین پر قائم بڑی عمارتوں اور پلازوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی اور صرف غریب خاندانوں کو ہی نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی عملداری بلاامتیاز ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی طبقے کو یہ تاثر نہ ملے کہ کارروائی صرف کمزور لوگوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔رہائشیوں نے کہا کہ زمین اور تجاوزات سے متعلق معاملات میں سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کا کردار بھی اہم ہے، اس لیے سندھ حکومت، سکھر انتظامیہ اور منتخب سیاسی نمائندوں کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی آپریشن سے قبل زمین کی قانونی حیثیت واضح کی جائے، متاثرہ خاندانوں کو باقاعدہ قانونی نوٹس جاری کیا جائے، ان کا مؤقف سنا جائے اور اگر بے دخلی ناگزیر ہو تو متبادل انتظامات اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔متاثرین کا مزید الزام ہے کہ ریلوے انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں داخل ہونے سے خواتین اور بچوں میں خوف پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے موقع پر تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔متاثرہ خاندانوں نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، ڈی ایس ریلوے سکھر، ریلوے پولیس کے اعلیٰ حکام اور سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ غریب خاندانوں کو بے گھر کرنے کے مبینہ آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، متاثرین کی شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور کسی بھی قانونی کارروائی سے قبل انہیں پیشگی نوٹس اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔شہریوں نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر ریلوے کی زمین سے متعلق پورے ملک میں ایک ہی پالیسی موجود ہے تو پھر ایسی کارروائیوں کا زیادہ دباؤ غریب آبادیوں پر ہی کیوں دکھائی دیتا ہے؟ کیا ریلوے کی زمین پر دیگر شہروں میں بھی لوگ آباد نہیں؟ شہریوں کا کہنا تھا کہ قانون کا نفاذ تمام علاقوں اور تمام طبقات کے لیے یکساں ہونا چاہیے، بصورت دیگر غریبوں کے خلاف امتیازی کارروائی کے الزامات مزید تقویت حاصل کریں گے۔متاثرہ خاندانوں نے اعلیٰ حکام سے انصاف، تحفظ اور اپنے گھروں کی چھتیں بچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب خاندانوں کو بے گھر کرنے کے بجائے معاملے کا قانونی اور انسانی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔