October 1, 2026

چار دہائیوں کی روشن یادیں اور ایک استاد کی باوقار رخصتی خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

IMG-20261001-WA0274

چار دہائیوں کی روشن یادیں اور ایک استاد کی باوقار رخصتی

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

قوموں کی تعمیر صرف بلند و بالا عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی حقیقی بنیاد ان اساتذہ کے ہاتھوں مضبوط ہوتی ہے جو نسلوں کو علم، شعور، کردار اور انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ ایک استاد جب اپنی زندگی کے کئی قیمتی عشرے نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ محض ملازمت کے اختتام کا نام نہیں رہتی بلکہ یہ ایک ایسے سفر کی تکمیل ہوتی ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
گورنمنٹ ایلیمنٹری بوائز سکول نمبر 1 پیل کے ہیڈماسٹر ملک عاشق حسین اعوان کی 40 سالہ تدریسی خدمات کے اختتام پر منعقد ہونے والی پروقار تقریب بھی اسی احساسِ تشکر اور اعترافِ خدمت کی خوبصورت مثال تھی۔ تقریب میں اساتذہ کرام، محکمہ تعلیم کے افسران، معززینِ علاقہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اس بات کا اظہار کیا کہ ایک مخلص استاد کی خدمات کو معاشرہ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ایم این اے ملک شاکر بشیر اعوان تھے، جبکہ سابق ایم پی اے ملک جاوید اقبال اعوان، سی ای او ایجوکیشن محمد عیسیٰ لالی اور ڈپٹی ڈی ای او نوشہرہ سمیت محکمہ تعلیم کے افسران بھی شریک ہوئے۔ مقررین نے ملک عاشق حسین اعوان کی چار دہائیوں پر محیط تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی خدمات کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک قابلِ قدر سرمایہ قرار دیا۔
ایم این اے ملک شاکر بشیر اعوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تجربہ کار اساتذہ معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ استاد کی اصل کامیابی صرف تدریسی ذمہ داریاں نبھانے میں نہیں بلکہ اپنے شاگردوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے سکول کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی کمروں کی تعمیر کے لیے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی، جو تعلیمی سہولیات کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سابق ایم پی اے ملک جاوید اقبال اعوان نے سکول کی تعلیمی ترقی، اسے پرائمری سے ایلیمنٹری کا درجہ دلانے اور نئی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے اپنی کاوشوں کا ذکر کیا۔ یہ امر اس بات کی علامت ہے کہ جب انتظامی، سیاسی اور تعلیمی حلقے ایک مقصد کے لیے یکجا ہوں تو تعلیمی اداروں کی ترقی کے امکانات مزید روشن ہو جاتے ہیں۔
سی ای او ایجوکیشن محمد عیسیٰ لالی نے استاد کو باعزت پیشہ اور بچوں کے مستقبل کا معمار قرار دیتے ہوئے ملک عاشق حسین اعوان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اپنے تجربے اور صلاحیتوں کو تعلیمی میدان میں بروئے کار لاتے رہیں۔ بلاشبہ تجربہ کار اساتذہ کا علم اور تجربہ نئی نسل کے اساتذہ کے لیے بھی ایک قیمتی رہنمائی بن سکتا ہے۔
اس تقریب کا سب سے جذباتی پہلو وہ تھا جب اساتذہ کرام اور معززینِ علاقہ نے ملک عاشق حسین اعوان کو تحائف پیش کیے۔ ملک ظفر اقبال، ملک عزیز مستیال اعوان، ملک خالد اعوان، ملک سلمان اعوان، ملک ابرار حسین اعوان سمیت سینکڑوں افراد کی شرکت اس امر کا واضح اظہار تھی کہ ملک عاشق حسین اعوان نے اپنے چار عشروں کے تدریسی سفر میں نہ صرف طلبہ بلکہ والدین، ساتھی اساتذہ اور اہلِ علاقہ کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام بنایا۔
چالیس سال کسی بھی انسان کی عملی زندگی کا ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔ اس دوران کئی نسلیں سکول کے دروازے سے داخل ہو کر عملی زندگی کی راہوں پر گامزن ہوتی ہیں۔ کسی استاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے پڑھائے ہوئے شاگرد معاشرے کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہوں اور برسوں بعد بھی اپنے استاد کو احترام اور محبت سے یاد کرتے ہوں۔
ملک عاشق حسین اعوان کی ریٹائرمنٹ دراصل ایک اختتام کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہے۔ سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد بھی علم بانٹنے، نوجوان نسل کی رہنمائی کرنے اور معاشرے میں تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ایسے اساتذہ جنہوں نے زندگی کا بڑا حصہ درس و تدریس کے لیے وقف کیا ہو، ان کا تجربہ معاشرے کے لیے کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں۔
آخر میں سکول کے اساتذہ کرام کی جانب سے ملک عاشق حسین اعوان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ یہ ظہرانہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ اپنے ساتھی استاد کے لیے محبت، احترام اور تشکر کا اظہار تھا۔
ملک عاشق حسین اعوان کو ریٹائرمنٹ پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ استاد ریٹائر ہو سکتا ہے، مگر اس کا دیا ہوا علم کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ چالیس برس کی ان کی تدریسی خدمات یقیناً ان کے شاگردوں کی کامیابیوں اور ان کے کردار کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔