*گھریلو تشدد گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، قریبی خاندانی تعلق بھی اس کے دائرۂ کار میں آتا ہے، ڈاکٹر سمعیہ سید*
*گھریلو تشدد گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، قریبی خاندانی تعلق بھی اس کے دائرۂ کار میں آتا ہے، ڈاکٹر سمعیہ سید*
*خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے رپورٹ ہونے والے واقعات اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، مہناز رحمن*
کراچی(رپورٹ: جاوید صدیقی) ڈاکٹر سمعیہ سید، پولیس سرجن کراچی، نے کہا کہ تشدد محض جسمانی حملے تک محدود نہیں بلکہ کسی فرد کے جسم، ذہن، ساکھ یا املاک کو پہنچنے والا نقصان بھی تشدد کے دائرے میں آتا ہے۔ تشدد کی نوعیت اور شدت کے مطابق اس کی مختلف قانونی حیثیت ہوسکتی ہے اور بعض معاملات قابلِ گرفتاری جرم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد کو صرف گھر کی چار دیواری تک محدود سمجھنا درست نہیں، بلکہ قریبی خاندانی تعلق بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہے، خواہ واقعہ گھر کے اندر پیش آئے یا باہر۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینٹر آف ایکسیلنس فار ویمنز اسٹڈیز، جامعہ کراچی کے زیر اہتمام، اور یو این ویمن (UN Women) و آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC)، جامعہ کراچی کے اشتراک سے چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان ’’پاکستان میں بڑھتے ہوئے صنفی تشدد: قانونی خلا، نفاذ میں حائل رکاوٹیں، چیلنجز اور مستقبل کا لائحۂ عمل‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر سمعیہ سید نے میڈیکو لیگل نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تشدد یا چوٹ کے واقعات میں طبی معائنہ اور شواہد کو قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزی شکل دینا ضروری ہے تاکہ انہیں عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکو لیگل رپورٹ، طبی شواہد، پولیس کارروائی اور فوجداری نظامِ انصاف ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اس لیے درست طبی و قانونی دستاویزات انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد میں مردوں کی تعداد بعض اوقات زیادہ ہوسکتی ہے، تاہم گھریلو اور خاندانی تشدد کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ اس لیے تشدد کے مجموعی اعدادوشمار اور گھریلو تشدد کے اعدادوشمار کو ایک ہی تناظر میں دیکھنے کے بجائے واقعے کی نوعیت، پس منظر اور متاثرہ فرد کے ساتھ تعلق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو تشدد، استحصال اور دیگر سماجی مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے محض شکایات اور تنقید کافی نہیں بلکہ نظام کے اندر رہتے ہوئے عملی اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خواتین کے لیے ماہواری کے دوران صحت، صفائی، تحفظ اور انسانی وقار کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں خواتین اور بچوں کی خصوصی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد، بچوں سے بدسلوکی اور جنسی استحصال کے متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوپاتے، اس لیے دستیاب اعدادوشمار مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے Child-Friendly Medical Clinics کا قیام ضروری ہے، جہاں طبی سہولیات کے ساتھ نفسیاتی و سماجی بحالی اور تشدد یا استحصال کی بروقت نشاندہی کا مؤثر نظام بھی موجود ہو۔ڈاکٹر سمعیہ نے بچوں سے متعلق معاملات میں ان کی عمر اور نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس اور محفوظ طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار تبدیلی کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو عملی طور پر نظام کا حصہ بننا ہوگا، مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اور مستقل مزاجی سے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے میڈیا اور بالخصوص ٹیلی ویژن ڈراموں کے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا معاشرتی رویوں کی عکاسی اور تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے خواتین اور بچوں کے حوالے سے مثبت، باوقار، خوداعتماد اور بااختیار کرداروں کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ کو تقویت ملے۔سینئر کونسل ممبر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) مہناز رحمن نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے اور ان کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنفی تشدد کے جتنے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کم سن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد قتل کے واقعات معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحفظ کے لیے موجود سماجی اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر محمد شارخ شانوَاز نے کہا کہ جنسی تشدد کے بعض مقدمات میں انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرنے والی خواتین کو ہی زنا یا بدکاری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے متاثرہ فرد کے بجائے اسے ملزم تصور کیے جانے کے خدشات پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریپ اور زنا کے مقدمات کی نوعیت، قانونی تقاضے اور متعلقہ دفعات مختلف ہیں، اس لیے قانونی کارروائی کے دوران ان میں واضح فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے قوانینِ حدود کے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صفیہ بی بی، تسلیم بی بی، جہاں آرا اور زہرا بی بی جیسے مقدمات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی میں بعض خواتین کو اپنے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے بجائے حمل یا دیگر حالات کی بنیاد پر قانونی مشکلات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنسی تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو مؤثر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کے حصول کے دوران انہیں مزید قانونی یا سماجی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم، جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ صنفی تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، تاہم اس کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد ہمیشہ جسمانی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا بلکہ تحقیر، حدود کی خلاف ورزی، ذہنی دباؤ، خوف، آن لائن ہراسانی اور نامناسب رویوں سے بھی اس کا آغاز ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنفی تشدد صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ جامعات کو تحقیق اور تعلیم کے ذریعے مؤثر حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا محفوظ، واضح اور رازدارانہ شکایتی نظام قائم کرنا چاہیے جہاں متاثرہ افراد بلاخوف اپنی شکایات بیان کرسکیں اور ان پر مؤثر کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکے۔پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے طلبہ، اساتذہ اور عملے سمیت ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نامناسب رویوں کو معمول سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے بروقت مداخلت ضروری ہے۔ محفوظ کیمپس کے ساتھ ایک محفوظ معاشرے کی تشکیل بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔سینٹر آف ایکسیلنس فار ویمنز اسٹڈیز، جامعہ کراچی کی استاد ڈاکٹر علیہ بلگرامی نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صنفی تشدد کی روک تھام اور خاتمے کے لیے آواز اٹھانا ناگزیر ہے، کیونکہ اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا اسے مزید بڑھنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر قانون سازی، قوانین پر عمل درآمد، ادارہ جاتی تعاون، آگاہی، تحقیق اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے صنفی تشدد کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔سیمینار سے سابق رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر شائستہ تبسم ودیگر نے بھی خطاب کیا۔