سوال: کیا روحیں جمعرات کو اپنے گھروں میں واپس آتی ہیں اور ثواب اکٹھا کرتی ہیں۔ بدھ 30 ستمبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
سوال: کیا روحیں جمعرات کو اپنے گھروں میں واپس آتی ہیں اور ثواب اکٹھا کرتی ہیں۔
بدھ 30 ستمبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن، آحادیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں جواب درج ذیل ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
عوام میں یہ بات نہایت مشہور ہے کہ ہر جمعرات کو مرنے والوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں اور گھر والوں کے اعمال کو دیکھتی ہیں یا ایصالِ ثواب کی منتظر رہتی ہیں، لیکن کتابُ اللہ (قرآن مجید)، احادیثِ رسول ﷺ اور آثارِ صحابہ کرام کی روشنی میں اس خیال یا عقیدے کی کوئی شرعی بنیاد اور ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ محض ایک عوامی اور بے اصل بات ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کے دلائل درج ذیل ہیں:
1۔ قرآنِ مجید کی روشنی میں:
قرآنِ کریم کی کئی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کی وفات کے بعد اس کی روح ایک برزخی زندگی (عالمِ برزخ) میں منتقل ہو جاتی ہے، اور اس کا دنیاوی دنیا میں واپس آنا یا کسی دن خاص طور پر چکر لگانا ممکن نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(ترجمہ: اور ان کے آگے ایک برزخ (رکاوٹ) ہے اس دن تک کے لیے جس دن وہ اٹھائے جائیں گے۔ – سورۃ المؤمنون: 100)
برزخ اس رکاوٹ یا پردے کو کہتے ہیں جو انسان کی دنیاوی اور اخروی زندگی کے درمیان حائل ہے، لہٰذا روح اس پردے کو پار کر کے واپس دنیا میں نہیں آ سکتی۔
سورۃ الزمر میں ارشاد ہے:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى
(ترجمہ: اللہ ہی روحوں کو قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ان کو ان کی نیند کے وقت، پھر جس پر موت کا حکم جاری فرما دیتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسری (سوئے ہوئے کی) روح کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ – سورۃ الزمر: 42)
یہ آیت صراحت سے بتاتی ہے کہ جن روحوں پر موت کا حکم جاری ہو چکا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے، انہیں آزادانہ گھومنے یا جمعرات کو گھروں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
2۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
نبی کریم ﷺ سے کسی بھی صحیح یا حسن حدیث میں یہ ثابت نہیں ہے کہ اموات کی روحیں جمعرات کو اپنے گھروں میں آتی ہیں۔
صحیح احادیث کے مطابق مومن کی روحیں وفات کے بعد اعلیٰ علیین (یا برزخ میں نعمتوں کی جگہ) میں اور کفار و فساق کی روحیں سجین (یا عذاب کے مقام) میں ہوتی ہیں۔
صحیح مسلم کی حدیث (حدیث نمبر: 1631) کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا ایسی نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
اگر روحوں کا دنیا میں آنا اور خود اپنے گھر کا احوال دیکھنا ممکن ہوتا، تو نبی کریم ﷺ اس کا صریح ذکر فرماتے۔
3۔ آثارِ صحابہ کرام کی روشنی میں:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، جو دین کو سب سے زیادہ سمجھنے والے اور سنت پر عمل کرنے والے تھے، ان سے بھی ایسا کوئی اثر یا قول ثابت نہیں ہے کہ وہ جمعرات کی رات روحوں کی آمد کا منتظر ہوتے یا ان کے لیے الگ سے اس مخصوص دن کا اہتمام کرتے۔ اگر جمعرات کے دن روحوں کا آنا کوئی شرعی حقیقت ہوتی تو صحابہ کرام اس پر ضرور عمل کرتے اور تابعین کو اس کی تعلیم دیتے-
خلاصہ:
جمعرات کو روحوں کے گھر آنے کا عقیدہ ایک شریعت نا آشنا اور موضوع (من گھڑت) خیال ہے۔ اسلام میں اپنے مرحومین و والدین کے لیے ایصالِ ثواب، دعا، استغفار اور صدقہ و خیرات کرنا مستحب اور باعثِ ثواب عمل ہے، لیکن اس کے لیے کسی خاص دن (جمعرات یا کسی اور دن) یا روحوں کے گھر آنے کے عقیدے کو شرط بنانا درست نہیں۔ انسان کسی بھی دن اور کسی بھی وقت اپنے مرحومین کو دعا اور صدقے کا ثواب پہنچا سکتا ہے۔
وما علینا الا البلاغ المبین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Cell:0092300860 4333