ہارون آباد/(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر) راہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر عارف رضا ملک نے کہا کہ ملک
ہارون آباد/(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر) راہنما جماعت اسلامی ڈاکٹر عارف رضا ملک نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش تشویشناک۔ عوام کو درپیش مسائل پس پشت ڈالنے نہیں دیں گے جماعت اسلامی کی جدوجہد سے عوام کو شعور ملا۔ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ناگزیر ہے جماعت اسلامی نے ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے عوام نے ہماری جدوجہد اور احتجاجی قوت کا عملی مظاہرہ دیکھ لیا ہے۔ ہم کسی صورت عوام کے بنیادی حقوق اور جائز مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ملک میں جاری سیاسی کشمکش سے عوام کو درپیش مسائل کو پس پشت ڈالنے نہیں دیں گے ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے وصول کیا جانے والا بھتہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ حکومت اگر قومی خزانے کی کمی کا جواز پیش کرتی ہے تو اسے پہلے حکمران طبقے کے غیر ضروری اخراجات، مراعات، سرکاری گاڑیوں، مفت بجلی اور پٹرول سمیت شاہانہ اخراجات کا حساب عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔ ملک میں سیاسی کشیدگی اور باہمی محاذ آرائی کے باعث عوام کے اصل مسائل پسِ پشت جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہر سیاسی جماعت کے آئین و قانون کے مطابق پرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتی ہے۔ حکومت کو سیاسی معاملات کو طاقت کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد، بالخصوص خواتین کو فوری رہا کیا جائے اور جیلوں میں موجود بیمار سیاسی رہنماؤں کو علاج معالجے اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عمران خان تک قانونی ملاقات، صحت کی سہولیات اور دیگر آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاجی مؤقف کے نتیجے میں عوام میں یہ شعور پیدا ہوا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا بوجھ براہ راست عام آدمی کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم کی یقین دہانی پر لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا گیا، جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ملک بھر میں دستخطی مہم، احتجاجی کیمپس اور عوامی رابطہ جاری ہے اور جماعت اسلامی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے۔انہوں نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کی شرائط کے بجائے عوامی مفاد اور قومی خودمختاری کی بنیاد پر چلایا جانا چاہیے۔ ایک طرف عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اشرافیہ کے اخراجات مسلسل جاری ہیں۔