September 28, 2026

*ٹائٹل : بیدار ہونے تک* *عنوان: دورِ فتن اور کذابوں سے ہوشیار!!* *کالمکار: جاوید صدیقی*

IMG-20260928-WA0216

*ٹائٹل : بیدار ہونے تک*

*عنوان: دورِ فتن اور کذابوں سے ہوشیار!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ یہ دور صرف جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، معاشی دوڑ اور مادی ترقی کا دور نہیں بلکہ یہ آزمائش، فتنوں، فکری انتشار اور عقیدے کے امتحان کا دور بھی ہے۔ ایسے زمانے میں مسلمان والدین، بزرگوں، اساتذہ، علمائے کرام، خطباء، دانشوروں، محققین اور اہلِ قلم کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ نئی نسل کو محض دنیاوی علوم ہی نہ سکھائیں بلکہ توحید، رسالت، ختمِ نبوت، قرآن و سنت اور دینی بصیرت سے بھی مضبوط کریں۔کیونکہ فتنہ ہمیشہ تلوار لے کر سامنے نہیں آتا۔ کبھی وہ خوبصورت الفاظ میں آتا ہے، کبھی روحانیت کے نام پر، کبھی شخصیت پرستی کے ذریعے، کبھی دولت اور شہرت کے لالچ میں، کبھی جھوٹی کرامت کے دعوے کے ساتھ، اور کبھی جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے انسان کی سوچ، ترجیحات اور عقیدے کو آہستہ آہستہ تبدیل کرتا ہے۔
*عقیدۂ ختمِ نبوت: قرآن کا قطعی اعلان*
اسلامی عقائد میں ختمِ نبوت بنیادی اور واضح عقیدہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ” یعنی حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ سورۂ احزاب، آیت 40 میں یہ حقیقت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے اس اعلان کی اہمیت یہ ہے کہ ختمِ نبوت محض تاریخی تصور نہیں بلکہ قرآن کی نص سے ثابت عقیدہ ہے۔ قرآن کی قراءتوں اور قدیم تفسیری توضیحات میں ’’خاتم النبیین‘‘ کے مفہوم کو نبوت کے اختتام سے مربوط کیا گیا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کے کسی نئے دعوے کو اسلامی عقیدے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتا۔
*رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان: میرے بعد کوئی نبی نہیں*
خاتم النبیین ﷺ نے خود بھی اس معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں چھوڑا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے منقول روایت کے مطابق واضح الفاظ آئے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ختمِ نبوت کے عقیدے کو سمجھنے کے لیے قرآن اور صحیح احادیث دونوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
*تیس کذابوں کی پیش گوئی*
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت میں تیس بڑے کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا، جبکہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ روایت سنن ابی داؤد میں موجود ہے اور مذکورہ روایت کو وہاں صحیح قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں صرف جھوٹے لوگوں کی تعداد نہیں بتائی گئی بلکہ امت کو ایک بنیادی اصول بھی سمجھایا گیا: ہر شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے، اس کے دعوے کو شخصیت، کرامت، خواب، کشف، سیاسی طاقت، عوامی مقبولیت یا ظاہری دینداری کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم اور جذبات میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
*فتنہ صرف دعوائے نبوت کا نام نہیں*
آج ’’فتنہ‘‘ کا مفہوم صرف کسی شخص کے نبوت کے دعوے تک محدود کر دینا بھی درست نہیں۔ فتنہ اس وقت بھی پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کو اپنی خواہش، شخصیت یا مفاد کے تابع کرنے لگے۔ کبھی کوئی شخص اپنے آپ کو مصلح کہتا ہے، کبھی مجدد، کبھی روحانی پیشوا، کبھی صاحبِ کشف و کرامت، کبھی ایسی شخصیت جس کی اطاعت کو دین کی اطاعت کے برابر قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں مسلمان کے لیے بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے: اس دعوے کی بنیاد قرآن و سنت میں کہاں ہے؟ اسلام شخصیت کے بجائے وحی کی پیروی کا دین ہے۔
*مسیلمہ کذاب: تاریخ کا ایک بڑا سبق*
رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں خلافتِ ابوبکر صدیقؓ کے دور میں اس فتنہ نے مسلح بغاوت کی صورت اختیار کی۔ جنگِ یمامہ اسلامی تاریخ کا انتہائی اہم واقعہ ہے۔ اس معرکے میں بہت سے صحابہ کرامؓ اور قرآن کے حفاظ شہید ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ارتداد اور بغاوت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو یمامہ کی مہم کی قیادت سونپی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ابتدائی مسلم معاشرے میں عقیدۂ ختمِ نبوت کوئی معمولی یا ثانوی مسئلہ نہیں تھا بلکہ امت کے بنیادی دینی نظم سے متعلق معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر یہاں تاریخ بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ جنگِ یمامہ کے بارے میں عوامی تحریروں میں بہت سی ایسی جزئیات بھی گردش کرتی ہیں جن کی ہر تفصیل یکساں درجے کی مستند نہیں۔ اس لیے تحقیقی کالم کا تقاضا ہے کہ ثابت شدہ واقعہ اور بعد کی مشہور روایت میں فرق رکھا جائے۔
*وحشیؓ اور مسیلمہ کا انجام*
حضرت وحشی بن حربؓ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد صحابی بنے، مسیلمہ کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے۔ ان کے بارے میں سیرت و تاریخ کی روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے مسیلمہ کو قتل کیا۔ یہاں تاریخ کا ایک غیر معمولی پہلو سامنے آتا ہے: جس شخص نے دورِ جاہلیت میں حضرت حمزہؓ کی شہادت میں کردار ادا کیا تھا، اسی وحشیؓ نے بعد میں اسلام قبول کیا اور مسیلمہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ یہ واقعہ ہمیں انسانی زندگی کے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کرتا ہے: توبہ، ایمان اور کردار کی تبدیلی انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔*کذابوں کا فتنہ اور قیامت*
رسول اللہ ﷺ نے صرف ماضی کے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے بارے میں نہیں بتایا بلکہ مستقبل میں آنے والے فتنوں سے بھی امت کو آگاہ فرمایا۔ سنن ابی داؤد کی مذکورہ روایت میں تیس کذابوں کا ذکر کرنے کے ساتھ یہ بھی بیان ہوا کہ امت میں ایک گروہ حق پر قائم رہے گا اور مخالفین اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔ یہ پیغام مسلمانوں کے لیے مایوسی نہیں بلکہ ثابت قدمی کا پیغام ہے۔ فتنے آئیں گے، مگر حق ختم نہیں ہوگا۔
*دجال کا فتنہ اور ایمان کی آزمائش*
احادیثِ نبویہ میں دجال کا فتنہ انتہائی بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مسلمانوں کو صرف دجال کے ظہور کا انتظار کرنے کے بجائے ایمان، علم، بصیرت اور دینی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس انسان نے اپنے عقیدے کی بنیاد قرآن و سنت کے بجائے شخصیت، شہرت، دولت، جذبات یا غیر مستند قصوں پر رکھی ہو، وہ فتنوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوسکتا ہے۔ اس لیے دجالی فتنے سے بچاؤ کی پہلی منزل ایمان کی حفاظت ہے۔
*نئی نسل اور موبائل کا امتحان*
آج ایک بچہ دنیا بھر کی معلومات چند سیکنڈ میں اپنے موبائل پر دیکھ سکتا ہے۔ یہ سہولت علم کا دروازہ بھی ہے اور گمراہی کا راستہ بھی۔ سوشل میڈیا پر ہر خوبصورت بات حق نہیں ہوتی، ہر مذہبی لباس والا عالم نہیں ہوتا، ہر عربی عبارت حدیث نہیں ہوتی، ہر وائرل ویڈیو علم نہیں ہوتی اور ہر جذباتی تقریر دین کی نمائندگی نہیں کرتی۔ یہاں ہماری ذمہ داری ہے کہ بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ: “موبائل چھوڑ دو!” بلکہ انہیں یہ سکھائیں کہ: “موبائل استعمال کرو، مگر اپنی عقل، ایمان اور وقت کو موبائل کے حوالے نہ کرو۔” انہیں بتایا جائے کہ دینی معلومات کا ماخذ کون سا ہے، حدیث کی صحت کیسے دیکھی جاتی ہے، قرآن کی آیت کا سیاق کیا ہوتا ہے، کسی عالم یا مقرر کی بات کو قرآن و سنت کے معیار پر کیسے پرکھا جاتا ہے اور جھوٹی معلومات کو کیسے پہچانا جاتا ہے۔سازش کے ہر دعوے کو تحقیق کی ضرورت ہے فتنوں سے خبردار کرنا ضروری ہے، لیکن ہر واقعے کو کسی خفیہ عالمی سازش سے جوڑ دینا تحقیق نہیں۔ یہودی، عیسائی، صہیونی، مغربی یا کسی بھی مذہبی و قومی گروہ کے تمام افراد کو ایک ہی سازش کا حصہ قرار دینا نہ قرآن کا علمی طریقہ ہے نہ تحقیق کا۔قرآن ہمیں خبر کی تحقیق کا اصول دیتا ہے: “فَتَبَيَّنُوا” یعنی خبر آئے تو تحقیق کرو۔ اس اصول کی روشنی میں اگر کسی فرد، تنظیم، حکومت یا گروہ پر کوئی الزام لگایا جائے تو اس کے لیے معتبر دستاویز، قابلِ اعتماد تاریخی ماخذ یا قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔ مسلمان کا ایمان افواہوں پر نہیں بلکہ حق، علم اور دلیل پر قائم ہونا چاہیے۔
*مرزا غلام احمد قادیانی اور پاکستان کا آئینی موقف*
برصغیر کی تاریخ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰٔ نبوت اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کے حوالے سے ایک نمایاں تاریخی باب ہے۔ پاکستان کے آئینی نظام میں بھی ختمِ نبوت کی بنیاد پر مسلم اور غیر مسلم کی آئینی تعریف موجود ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 260(3) میں مسلمان کی تعریف میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی ’’absolute and unqualified finality‘‘ پر ایمان کو شامل کیا گیا ہے اور قادیانی/لاہوری گروپ کو آئینی طور پر غیر مسلم کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ شق 1974 کی دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے شامل ہوئی تھی۔ یہ ایک آئینی و قانونی حقیقت ہے، جسے مذہبی بحث سے الگ اس کے قانونی تناظر میں بھی سمجھنا چاہیے۔ لیکن تحقیق کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر نام کو ثبوت کے بغیر نہ جوڑا جائے، ہمارے معاشرے میں بعض دیگر شخصیات کے بارے میں بھی دعوائے نبوت، روحانی دعووں یا گمراہ کن عقائد کی باتیں کی جاتی ہیں۔ کسی بھی شخص کے بارے میں ایسا دعویٰ کرتے ہوئے ضروری ہے کہ اس کے اپنے مستند بیانات، تحریریں، معتبر تاریخی ریکارڈ یا عدالتی/سرکاری دستاویز سامنے رکھی جائے۔خصوصاً موجودہ یا حالیہ شخصیات کے بارے میں محض سنی سنائی بات کی بنیاد پر انہیں ’’کذاب‘‘، ’’مرتد‘‘ یا کسی عالمی سازش کا ایجنٹ قرار دینا علمی صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ دین کی حفاظت کے لیے بھی تحقیق ضروری ہے اور صحافت کی دیانت کے لیے بھی۔ ایمان صرف نام کا نہیں، شعور کا بھی تقاضا کرتا ہے، آج مسلمان کا سب سے بڑا امتحان شاید یہ نہیں کہ وہ اسلام کا نام جانتا ہے یا نہیں؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اسلام کو پہچانتا کتنا ہے۔ کیا ہماری نئی نسل جانتی ہے کہ توحید کیا ہے؟ کیا وہ جانتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت کا مطلب کیا ہے؟ کیا وہ قرآن و حدیث کے درمیان تعلق سمجھتی ہے؟ کیا وہ فرق کر سکتی ہے کہ قرآن کی آیت کیا ہے، حدیث کیا ہے، عالم کی تشریح کیا ہے اور کسی عام شخص کی ذاتی رائے کیا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں نئی نسل کو صرف فتنوں سے ڈرانے کے بجائے اسے علم سے مضبوط کرنا ہوگا۔
*والدین کی ذمہ داری*
والدین اپنے بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ: ’’یہ مت دیکھو، وہاں مت جاؤ، فلاں کو مت سنو۔‘‘ بلکہ انہیں اتنا علم دیں کہ وہ خود غلط اور صحیح میں فرق کرسکیں۔ گھر میں قرآن کا مطالعہ ہو، سیرتِ رسول ﷺ بیان ہو، صحابہ کرامؓ کی زندگی پڑھی جائے، ختمِ نبوت کا عقیدہ دلیل کے ساتھ سمجھایا جائے، اور سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کیونکہ سوال دبانے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کبھی انسان جواب کہیں اور تلاش کرنے لگتا ہے۔
*علمائے کرام کی ذمہ داری*
علمائے کرام، مفتیانِ عظام، ائمہ، خطباء اور دینی مدارس سے وابستہ اہلِ علم کی ذمہ داری بھی غیر معمولی ہے۔ آج نوجوان صرف مسجد میں نہیں بلکہ یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی دینی مواد دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا مستند علماء کو بھی جدید ابلاغی ذرائع استعمال کرتے ہوئے مختصر، مدلل، شائستہ اور حوالہ جاتی دینی مواد نوجوان نسل تک پہنچانا چاہیے۔ صرف جذباتی تقریر کافی نہیں؛ آج کی نسل دلیل بھی مانگتی ہے۔
*صحافت اور دینی ذمہ داری*
ایک صحافی اور قلم کار کے لیے بھی یہ میدان انتہائی حساس ہے۔ مذہبی موضوعات پر لکھتے ہوئے ایک لفظ کسی کے ایمان، عزت یا سماجی حیثیت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے اصل ماخذ دیکھنا، حدیث کا درجہ معلوم کرنا، تاریخی واقعات میں مختلف روایات کا فرق واضح کرنا اور غیرمصدقہ الزام سے اجتناب کرنا لازم ہے۔ قلم کی طاقت اسی وقت خیر بن جاتی ہے جب قلم سچائی، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ چلایا جائے۔ فتنوں سے بچنے کا عملی راستہ اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو فتنوں سے محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو چند بنیادی اصول اختیار کرنا ہوں گے:
اول: قرآن مجید سے تعلق مضبوط کیا جائے۔دوم: صحیح احادیث اور مستند سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔
سوم: عقیدۂ توحید اور ختمِ نبوت کو دلیل کے ساتھ نئی نسل کو سمجھایا جائے۔
چہارم: ہر وائرل مذہبی پیغام کو فوراً آگے نہ بھیجا جائے۔
پنجم: دینی دعووں کی تحقیق معتبر علماء اور اصل کتب سے کی جائے۔
ششم: شخصیت پرستی سے بچا جائے؛ معیار قرآن و سنت کو بنایا جائے۔
ہفتم: نوجوانوں کو سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور دلیل سمجھنے کی تربیت دی جائے۔
ہشتم: سوشل میڈیا کے استعمال میں وقت، مواد اور ذہنی اثرات کی نگرانی کی جائے۔
نہم: مذہبی اختلاف کو گالی، نفرت اور تشدد میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔
دہم: کسی فرد پر کفر یا ارتداد کا حکم لگانے کے معاملے میں عام آدمی اپنی رائے کو شرعی فتویٰ نہ سمجھے؛ ایسے حساس احکام کے لیے مستند اہلِ علم اور متعلقہ قانونی نظام کی طرف رجوع کیا جائے۔
*پاکستان اور عقیدۂ ختمِ نبوت*
پاکستان کی تخلیق اور اس کے نظریاتی مباحث میں اسلام کا حوالہ تاریخی طور پر اہم رہا ہے۔ موجودہ آئینی متن بھی اسلام اور ختمِ نبوت سے متعلق متعدد دفعات رکھتا ہے، اور آرٹیکل 260(3) میں مسلمان کی آئینی تعریف واضح طور پر ختمِ نبوت کے عقیدے سے مربوط ہے۔ لیکن پاکستان کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں ہوگی۔ پاکستان کی حفاظت ایمان، علم، قانون، انصاف، دیانت، تعلیم، معاشی مضبوطی، قومی یکجہتی اور ذمہ دار شہری کردار سے ہوگی۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر کوئی قوم اندر سے کمزور ہوجائے تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قومی اصلاح کا راستہ صرف دوسروں کو دشمن قرار دینے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کی کمزوریوں کو دور کرنے میں بھی ہے۔
*فتنہ کا مقابلہ نفرت سے نہیں*
بصیرت سے دینِ اسلام ہمیں حق و باطل میں فرق کرنا سکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی تحقیق، عدل اور حکمت بھی سکھاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ کوئی خبر آئے تو تحقیق کرو۔ یہی اصول آج سوشل میڈیا کے زمانے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ آج ایک جھوٹی پوسٹ چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک جعلی حدیث ہزاروں افراد شیئر کرسکتے ہیں۔ ایک جھوٹی تصویر پورے معاشرے میں اشتعال پیدا کرسکتی ہے۔ ایک غیرمصدقہ مذہبی دعویٰ کسی شخص کی عزت تباہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا آج کا مسلمان صرف فتنوں سے خوف زدہ نہ ہو بلکہ فتنوں کو پہچاننے والا بنے۔ معزز قارئین!! عقیدۂ ختمِ نبوت ہماری دینی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ قرآن نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی واضح فرمایا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اسی لیے جھوٹے مدعیانِ نبوت سے ہوشیاری ضروری ہے۔ مگر ہوشیاری کا مطلب افواہ نہیں۔ تحقیق کا مطلب الزام نہیں۔ دین کا مطلب نفرت نہیں۔ اور ختمِ نبوت سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بغیر تحقیق کسی پر کوئی الزام لگادیں۔ بلکہ اصل راستہ یہ ہے کہ قرآن پڑھیں، صحیح حدیث سمجھیں، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پڑھیں، صحابہ کرامؓ کی زندگی سے سبق لیں، اہلِ علم سے رجوع کریں اور اپنی نسل کو علمی و ایمانی بنیاد فراہم کریں۔ فتنے آئیں گے۔ جھوٹے دعوے سامنے آئیں گے۔ دھوکے کے نئے طریقے پیدا ہوں گے۔ ٹیکنالوجی بدلتی رہے گی۔معلومات کے ذرائع بڑھتے رہیں گے۔ لیکن ایک مسلمان کی اصل حفاظت اس کے صحیح عقیدے، صحیح علم، تقویٰ، بصیرت اور قرآن و سنت سے مضبوط تعلق میں ہے۔ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیا میں کامیاب ہونے کی تربیت نہ دیں؛ انہیں یہ بھی سکھائیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے ایمان کیسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ گھر، بازار، مدرسہ، اسکول، یونیورسٹی اور موبائل۔ ہر جگہ انسان کا امتحان ہے۔ اور شاید آج ہمارے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے: ہم اپنی اگلی نسل کو صرف جدید دنیا کے لیے تیار کر رہے ہیں، یا فتنوں کے دور میں ایمان محفوظ رکھنے کے لیے بھی؟ اب بیدار ہونا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے، ہمیں عقیدۂ توحید اور ختمِ نبوت پر ثابت قدم رکھے، جھوٹے دعووں، گمراہ کن فتنوں، دجل و فریب اور ہر قسم کی فکری و اخلاقی گمراہی سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں حق کو حق سمجھ کر اختیار کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!