September 29, 2026

*بیدار ہونے تک* *عنوان: پینشن اور پینشنرز کی حقیقت* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

IMG-20260928-WA0216

*بیدار ہونے تک*

*عنوان: پینشن اور پینشنرز کی حقیقت*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

ایک سرکاری افسر سے ان کی پنشن کے بارے میں گفتگو ہوئی تو حسبِ معمول ہم نے بھی بعض ٹی وی تجزیوں سے متاثر ہو کر سرکاری ملازمین پر ’’تیر کے نشتر‘‘ برسا دیے کہ سرکاری ملازمین اچھی تنخواہیں اور پنشنیں لیتے ہیں، جو قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ ہیں۔ میری بات سن کر وہ پہلے مسکرائے، پھر نہایت سنجیدگی سے بولے:’’لگتا ہے آپ بھی بعض ٹی وی اینکرز کی باتوں کو حرفِ آخر سمجھ کر دہرا رہے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی پوری تصویر صرف تنخواہ اور پنشن کے اعداد سے نہیں سمجھی جا سکتی۔‘‘انہوں نے کہا کہ کسی ایک یا چند افراد کی بدعنوانی کو بنیاد بنا کر لاکھوں سرکاری ملازمین اور تمام پنشنرز کو ایک ہی نظر سے دیکھنا انصاف نہیں۔ یقیناً سرکاری ملازمین میں بھی اچھے، دیانت دار، محنتی اور فرض شناس لوگ موجود ہیں اور ایسے افراد بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کسی ادارے کے چند افراد کے کردار کو پورے طبقے کی شناخت بنا دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصاً نچلے گریڈ کے ملازمین کی زندگی کو قریب سے دیکھا جائے تو حقیقت بہت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ گریڈ ایک سے سولہ تک کے بہت سے ملازمین محدود آمدنی، بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات اور محدود مراعات کے ساتھ اپنی پوری ملازمت گزارتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد صورتحال مزید مشکل ہو جاتی ہے، کیونکہ آمدنی کم ہوجاتی ہے جبکہ عمر، علاج، ادویات، بچوں کی ضروریات، بیٹیوں کی شادی، گھر کے اخراجات اور دیگر ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’آپ میڈیا والے بھی ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ سرکاری ملازم آرام سے تنخواہ اور پنشن لیتا ہے، مگر کبھی یہ بھی دیکھیے کہ ایک عام ملازم نے اپنی ملازمت کے دوران کتنی محدود آمدنی میں گھر چلایا، بچوں کو پڑھایا، ان کی شادیاں کیں اور ریٹائرمنٹ تک پہنچا۔‘‘ پھر انہوں نے میڈیا کے بعض پہلوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں بھی ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا۔ صحافت میں بے شمار دیانت دار، محنتی اور حق گو صحافی موجود ہیں، لیکن اگر کہیں خبر، اشتہار، مفاد یا ذاتی تعلقات صحافتی اصولوں پر غالب آجائیں تو اس پر بھی احتساب ہونا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ جس معاشرے میں سرکاری ملازم سے دیانت داری کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اسی معاشرے کو صحافت، سیاست، کاروبار اور دیگر تمام شعبوں میں بھی دیانت، شفافیت اور جواب دہی کا یکساں معیار قائم کرنا ہوگا۔پنشن خیرات نہیں، ایک باقاعدہ قانونی حق ہے پنشن کو محض حکومت کی طرف سے دیا جانے والا احسان یا خیرات سمجھنا درست نہیں۔ جہاں کسی سرکاری یا ادارہ جاتی پنشن اسکیم کے تحت ملازم نے اپنی مقررہ سروس مکمل کی ہو اور وہ متعلقہ قواعد کے مطابق پنشن کا مستحق ہو، وہاں پنشن اس کے قانونی اور ضابطہ جاتی حقوق کا حصہ ہوتی ہے۔ البتہ یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہر پنشن اسکیم کا مالیاتی طریقۂ کار ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بعض نظاموں میں ملازم اور حکومت کی باقاعدہ شراکت ہوتی ہے، بعض میں پنشن ایک متعین فارمولے کے تحت سرکاری ذمہ داری ہوتی ہے، جبکہ بعض اداروں میں الگ قواعد لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ ہر سرکاری پنشن لازماً ملازم کی تنخواہ کا وہی حصہ ہے جو حکومت کے پاس جمع ہوتا رہا، ہر نظام کے لیے درست نہیں۔ اسی طرح پنشن کو ’’کمپاؤنڈ انٹرسٹ‘‘ قرار دینا بھی عمومی طور پر درست اصطلاح نہیں۔ پنشن کی شرح، اہلیت، اضافے، خاندانی پنشن اور دیگر معاملات متعلقہ قانون، قواعد اور پنشن اسکیم کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ مذہبی اعتبار سے بھی کسی جائز ملازمت کے نتیجے میں متعلقہ قانون و ضابطے کے تحت ملنے والی پنشن کو محض اس وجہ سے حرام قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد مل رہی ہے۔ اصل معاملہ اس کی قانونی بنیاد، معاہدے اور ادارے کے نظامِ مالیات سے متعلق ہے۔ کسی مخصوص پنشن اسکیم کے شرعی حکم کے لیے مستند مفتی یا دارالافتاء سے اس اسکیم کی مکمل تفصیلات کے ساتھ رائے لینا زیادہ درست طریقہ ہے۔ اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک پنشنر اپنی محدود ماہانہ آمدنی میں کس طرح زندگی گزارے؟ مہنگائی میں اضافہ صرف بازار کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں؛ اس کا براہِ راست اثر دوا، علاج، بجلی، گیس، خوراک، کرایہ، گھر کی مرمت اور دیگر بنیادی ضروریات پر پڑتا ہے۔ ایک شخص جب جوانی میں ملازمت اختیار کرتا ہے تو اس کے سامنے ریٹائرمنٹ کے بعد باوقار زندگی کا ایک تصور ہوتا ہے۔ مگر اگر کئی دہائیوں کی سروس کے بعد اسے ایسی پنشن ملے جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو تو یہ محض ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی اور معاشرتی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔خاص طور پر بزرگ پنشنرز کے لیے علاج معالجہ ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ادویات اور طبی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ لازمی نہیں ہوتا۔ ماضی کی سرکاری ملازمت اور آج کا بحران کے متعلق
اس افسر نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند دہائیاں پہلے سرکاری ملازمت حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ امیدوار امتحانات، ٹیسٹ اور انٹرویوز کے مختلف مراحل سے گزرتے تھے۔ میرٹ، نگرانی اور تقرری کے باقاعدہ طریقہ کار کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تقرری کا نظام کسی بھی سیاسی یا ذاتی اثر سے بالاتر، شفاف، میرٹ پر مبنی اور قابلِ احتساب ہو۔ ریاستی اداروں میں اہل افراد کی تقرری ہوگی تو اس کے اثرات براہِ راست عوامی خدمت کے معیار پر پڑیں گے۔ ہر سرکاری ملازم فرشتہ نہیں، مگر ہر ملازم مجرم بھی نہیں یہ جملہ شاید پوری بحث کا خلاصہ ہے۔ سرکاری ملازمین میں بدعنوان عناصر موجود ہوں تو ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت، اقربا پروری اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر قانون حرکت میں آنا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایماندار، نچلے اور متوسط درجے کے ملازمین کو محض اس بنیاد پر بدعنوان یا قومی خزانے کا بوجھ قرار نہ دیا جائے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں۔ اسی طرح میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر پورے طبقے کو بدنام کرنا صحافتی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ میڈیا کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا، کمزور کی آواز بننا اور طاقتور سے سوال کرنا بھی ہے۔ پنشنرز خاموش ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے مسائل نہیں، ہمارے پنشنرز نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ریاستی یا ادارہ جاتی خدمت میں گزارا ہوتا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، توانائی، وقت اور صلاحیتیں سرکاری خدمت کے لیے وقف کیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہی لوگ عمر رسیدگی، بیماری اور مالی دباؤ کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد نہ احتجاج کرسکتے ہیں، نہ دفاتر کے چکر لگانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اقتدار کے ایوانوں تک اپنی آواز پہنچانے کا وسیلہ۔ اس خاموشی کو ان کی رضامندی نہ سمجھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بجٹ میں پنشن کے لیے رقم مختص کردی جائے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پنشنر کی حقیقی زندگی پر مہنگائی کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ:پنشن میں اضافے کا جائزہ مہنگائی اور معاشی حالات کو سامنے رکھ کر لیا جائے۔ کم پنشن لینے والے بزرگوں کے لیے خصوصی تحفظات پر غور کیا جائے۔ پنشن کے معاملات کو غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں سے پاک کیا جائے۔ پنشنرز کے علاج اور ادویات کے لیے مؤثر سہولتیں پیدا کی جائیں۔ پنشن کے قوانین اور فارمولوں کو عام فہم زبان میں واضح کیا جائے ۔پنشنرز کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے باعزت اور آسان طریقۂ کار فراہم کیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی کی ذمہ داری متعلقہ فرد پر عائد کی جائے، پورے سرکاری ملازمین یا پنشنرز کے طبقے پر نہیں۔ یاد رھے کہ پنشنرز قومی خزانے کا دشمن نہیں؛ وہ ایک ایسا شہری ہے جس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ کسی ادارے یا ریاستی نظام کی خدمت میں گزارا اور اب عمر کے اس حصے میں ہے جہاں اسے عزت، تحفظ اور سہارا درکار ہے۔ ہمیں سرکاری خزانے کے اخراجات پر ضرور سوال کرنا چاہیے، لیکن سوال حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ جہاں بدعنوانی ہے وہاں احتساب ہو، جہاں غیر ضروری مراعات ہیں وہاں اصلاح ہو، جہاں مالی بوجھ غیر پائیدار ہے وہاں پالیسی پر نظرثانی ہو؛ لیکن ایک عام، کم آمدنی والے پنشنر کو اشرافیہ کی مراعات کے ساتھ کھڑا کرکے دیکھنا انصاف نہیں۔حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزراء اور اراکینِ اسمبلی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، مگر ریاست کی ذمہ داری مستقل رہتی ہے۔ آج جو شخص پنشنر ہے، کل اسی صف میں آج کا کوئی سرکاری ملازم بھی کھڑا ہوگا۔ اس لیے پنشن کے مسئلے کو سیاسی نعروں کے بجائے قانون، معیشت، انسانی وقار اور انصاف کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پنشنرز کو خیرات نہیں، ان کے قانونی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کی ضمانت چاہیے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست، حکومت، پارلیمنٹ، بیوروکریسی اور میڈیا—سب کو اپنے اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔۔۔۔!!