*بیدار ہونے تک* *عنوان: دینِ محمدی ﷺ کو نقصان پہنچانے والے عناصر* *تحریر: جاوید صدیقی*
*بیدار ہونے تک*
*عنوان: دینِ محمدی ﷺ کو نقصان پہنچانے والے عناصر*
*تحریر: جاوید صدیقی*
دینِ محمدی ﷺ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری اور کامل دین ہے جو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا گیا۔ قرآنِ کریم نے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمت للعالمین قرار دیا اور آپ ﷺ کی بعثت کو کسی ایک قوم، خطے یا نسل تک محدود نہیں رکھا۔ واقعۂ معراج بھی آپ ﷺ کے عظیم مقام، اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت اور رسالتِ محمدی ﷺ کی عظمت کی ایک روشن نشانی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ، آپ ﷺ کا اخلاق، آپ ﷺ کی تعلیمات اور قرآنِ کریم کی ہدایت قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ صحابۂ کرامؓ، اہلِ بیتِ اطہارؓ، تابعین، تبع تابعین اور اولیائے صالحین نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اسی پیغام کو آگے پہنچایا جس کی بنیاد توحید، رسالت، عبادت، عدل، اخوت، رحم، ایثار، صداقت اور انسانیت کی خیر خواہی پر قائم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم دینِ محمدی ﷺ کی اصل روح کو سمجھ بھی رہے ہیں؟ مذہبی اختلاف اگر علمی، اخلاقی اور شائستہ حدود میں ہو تو امت کے علمی ورثے کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن جب اختلاف نفرت، تکفیر، تحقیر، تعصب، فرقہ واریت اور باہمی دشمنی میں تبدیل ہوجائے تو یہ دین کی خدمت نہیں بلکہ امت کے اتحاد کے لیے نقصان دہ صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو باہمی اخوت کا درس دیا۔ قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے: “بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔” پھر ہم نے یہ کیسا رویہ اختیار کرلیا کہ ایک دوسرے کی عبادت گاہیں، مدارس، علماء، مسالک اور شخصیات ہی ہماری دشمنی کا مرکز بن جائیں؟ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر کسی مسلمان کو محض مسلکی اختلاف کی بنیاد پر گمراہ، فاسق یا کافر قرار دینا انتہائی سنگین معاملہ ہے جس میں شرعی اصولوں، علم اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں چشتی، قادری، سہروردی، نقشبندی اور دیگر روحانی سلسلوں سے وابستہ بزرگوں نے اپنے اپنے علمی و روحانی طریقوں کے ذریعے دین، اخلاق، تزکیۂ نفس اور انسان دوستی کی تعلیم کو فروغ دیا۔ ان بزرگوں کی تعلیمات میں محبت، خدمت، عاجزی، برداشت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے دروازوں پر مختلف طبقات کے لوگ آتے اور اخلاق و روحانیت سے متاثر ہوتے تھے۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے اسلام کو محض ایک نظریے کے بجائے ایک زندہ اخلاقی و روحانی نظام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ مذہبی اختلافات کے بعض مظاہر نے امت کے اجتماعی شعور کو کمزور کیا۔ جب دین کے بنیادی اصولوں کے بجائے گروہی وابستگیاں ہماری شناخت بن جائیں، جب دلیل کے بجائے الزام اور کردار کشی ہماری زبان بن جائے، جب اصلاح کے بجائے نفرت ہماری ترجیح بن جائے، تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم دین کی خدمت کررہے ہیں یا اپنی گروہی وابستگی کی؟ دینِ محمدی ﷺ محبت، عدل، امانت، صداقت، صبر، برداشت، ایثار اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بدترین حالات میں بھی اخلاق، حکمت اور صبر کا راستہ اختیار فرمایا۔ لہٰذا دین کے نام پر نفرت، فساد، جھوٹ، بہتان، دھوکہ، تشدد، تکبر اور دوسروں کی تحقیر کو فروغ دینا اسلامی تعلیمات کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔اسی طرح تاریخ کے بعض حساس واقعات اور مختلف مذہبی تحریکوں کے بارے میں جذباتی الزامات عائد کرنے کے بجائے مستند تاریخی شواہد، ریاستی ریکارڈ اور قابلِ اعتماد علمی مصادر سے رجوع کرنا چاہیے۔ عقیدے کے بنیادی معاملات میں مسلمانوں کا واضح شرعی مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، مگر کسی فرد یا گروہ کے خلاف غیر ثابت شدہ ذاتی الزامات یا کردار کشی نہ دین کی خدمت ہے اور نہ صحافت و تحقیق کا تقاضا۔آج پاکستان سمیت پورے برصغیر کو ایسے مذہبی مزاج کی ضرورت ہے جو قرآن و سنت، علم، اخلاق، قانون اور انسانیت کو ساتھ لے کر چلے۔ مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور دینی ادارے معاشرے کی اصلاح کے مراکز بنیں؛ نفرت اور تقسیم کے مراکز نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ جو شخص یا ادارہ قرآن، سنت، آئین یا قانون کی خلاف ورزی کرے، اس کے خلاف کارروائی ثبوت، قانون اور عدالتی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ نہ کسی کو مذہب کے نام پر قانون سے بالاتر ہونا چاہیے اور نہ کسی مذہبی اختلاف کو تشدد یا انتقام کا ذریعہ بننے دینا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دین کی حفاظت صرف دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے نہیں ہوتی۔ دین کی حقیقی خدمت اپنے کردار، معاملات، زبان، تجارت، سیاست، صحافت، تعلیم اور معاشرت کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے سے ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسالک کے اختلاف سے اوپر قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات، امت کی وحدت، انسانی احترام، قانون کی حکمرانی اور اخلاقِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔ اگر ہم واقعی دینِ محمدی ﷺ کے وفادار ہیں تو ہمیں نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف، تکبر کے بجائے عاجزی، تکفیر کے بجائے حکمت، اور انتشار کے بجائے اخوت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ دینِ محمدی ﷺ کو کسی دشمن سے اتنا نقصان نہیں پہنچ سکتا جتنا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب اس کے نام پر جھوٹ، نفرت، فرقہ واریت، ظلم اور اخلاقی بدعنوانی کو فروغ دیا جائے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں، اپنے کردار کا احتساب کریں اور قرآن و سنت کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں جہاں دین کا نام امن، عدل، اخوت، رحمت اور انسانیت کی خدمت کے ساتھ پہچانا جائے۔جاگنے کا وقت گزر نہ جائے, اب بھی وقت ھے بیدار ہوجائیں۔۔۔!!