ڈیف ریچ اسکول سکھر فائر سیفٹی ایس او پیز پر عملدرآمد میں مثالی ادارہ قرار
ڈیف ریچ اسکول سکھر فائر سیفٹی ایس او پیز پر عملدرآمد میں مثالی ادارہ قرار
سکھر(بیورورپورٹ)ڈائریکٹر سول ڈیفنس سندھ ریاض حسین لغاری اور ڈپٹی کمشنر و کنٹرولر سول ڈیفنس سکھر نادر شہزاد خان کی خصوصی ہدایات پر سول ڈیفنس وارڈن سروس سکھر کی جانب سے شہر کے تعلیمی اداروں میں فائر سیفٹی ایس او پیز کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں سول ڈیفنس وارڈن سروس کے ڈپٹی چیف وارڈن ڈاکٹر سعید اعوان نے سماعت سے محروم بچوں کے معروف ادارے ڈیف ریچ اسکول سکھر کا دورہ کیا، جہاں فائر سیفٹی ایس او پیز پر بہترین انداز میں عملدرآمد دیکھنے میں آیا۔دورے کے دوران انکشاف ہوا کہ اسکول کے تقریباً ہر کلاس روم اور دروازے کے باہر فائر ایکسٹنگوشرز نصب کیے گئے ہیں، جبکہ بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے والی ٹرانسپورٹ میں بھی فائر ایکسٹنگوشرز کی سہولت موجود ہے۔ اس موقع پر اسکول کے پرنسپل عمران علی اور ایڈمن شعیب احمد شیخ نے ڈپٹی چیف وارڈن ڈاکٹر سعید اعوان کو فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈاکٹر سعید اعوان نے کہا کہ ڈیف ریچ اسکول سکھر فائر سیفٹی ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے والے بہترین اداروں میں شامل ہے۔ ادارے میں 328 بچوں اور 78 افراد پر مشتمل اسٹاف کے لیے نہ صرف تعلیمی بلکہ حفاظتی حوالے سے بھی بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ سکھر کے تمام سرکاری و نجی اسکول بھی ڈیف ریچ اسکول کی طرز پر فائر سیفٹی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچوں اور اساتذہ کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ فائر سیفٹی صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کا اہم ذریعہ ہے۔دورے کے موقع پر فائر ایکسٹنگوشر کے استعمال اور آگ بجھانے کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں اسکول کے اساتذہ نے بھرپور حصہ لیا۔ عملی مشق کے ذریعے اساتذہ کو ہنگامی صورتحال میں آگ پر قابو پانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر سول ڈیفنس وارڈن سروس سکھر کی ٹیم میں پوسٹ وارڈن محمود احمد، انچارج آفیسرز لالا عمران میرانی، لالا ریحان پٹھان، ریاض صدیقی، شہاب حسین اور احسن راجپوت بھی موجود تھے۔سول ڈیفنس وارڈن سروس سکھر کی جانب سے تعلیمی اداروں میں فائر سیفٹی ایس او پیز کے معائنے اور آگ سے بچاؤ کے حوالے سے عملی تربیت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔