*جامعہ کراچی میں”خلیجی بحران، اعلامیۂ مکہ اور اس کے بعد” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد*
*جامعہ کراچی میں”خلیجی بحران، اعلامیۂ مکہ اور اس کے بعد” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز شعبہ ہذ امیں ’’خلیجی بحران، اعلامیۂ مکہ اور اس کے بعد‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، تزویراتی امور کے ماہرین، صحافیوں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ سیمینار میں مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال، خلیجی خطے میں ابھرتی نئی صف بندیوں اور علاقائی و عالمی سلامتی پر ان کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شعبہ بین الاقوامی تعلقات جامعہ کراچی کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم احمد نے معزز مقررین، اساتذہ، محققین اور طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر میں رونما ہونے والی بین الاقوامی تبدیلیوں پر تنقیدی اور علمی مکالمے کے لیے مؤثر پلیٹ فارمز کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے شعبے کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحقیق، علمی تبادلے اور عالمی سطح پر ابھرتے چیلنجز کے حوالے سے باخبر پالیسی مکالمے کو فروغ دیا جائے گا۔سیمینار کے پہلے سیشن میں جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت نے آن لائن شرکت کرتے ہوئے ’’خلیجی بحران: اب آگے کیا؟‘‘ کے موضوع پر جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے خلیجی خطے کے بدلتے سیاسی منظرنامے، علاقائی اتحادوں اور صف بندیوں کے مستقبل اور مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت کے تزویراتی اثرات کا جائزہ لیا۔دوسری نشست میں ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد علی احسان نے ’’معاہدۂ دفاعِ مشترکہ مکہ: مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے لیے سلامتی کی ضمانت؟‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے وسیع علمی اور عسکری تجربے کی روشنی میں معاہدۂ دفاعِ مشترکہ مکہ کو خطے میں اجتماعی سلامتی کے ممکنہ فریم ورک کے طور پر زیرِ بحث لاتے ہوئے اس کے مشرقِ وسطیٰ سے باہر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔سیمینار کے تیسرے سیشن میں امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے پروفیسر ڈاکٹر مقتدر خان نے بھی آن لائن شرکت کی اور ’’معاہدۂ دفاعِ مشترکہ مکہ: مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سلامتی کے حصار کا متبادل‘‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے خطے کے بدلتے ہوئے سلامتی کے نظام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ آیا ابھرتے ہوئے علاقائی دفاعی و سلامتی کے انتظامات، امریکا کی قیادت میں قائم روایتی سلامتی شراکت داریوں کے لیے ایک مؤثر متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔سیمینار کے آخری سیشن سے معروف صحافی اور جیو نیوز کے کنٹرولر نیوز، نسیم حیدر نے ’’امریکا، ایران جنگ: فاتح کون، شکست خوردہ کون؟‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے میڈیا اور پالیسی کے تناظر میں حالیہ برسوں کے ایک اہم جغرافیائی سیاسی تنازع کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے خطے اور عالمی سطح کے اہم فریقوں کے تزویراتی مفادات، سیاسی و اقتصادی اثرات اور سلامتی سے متعلق ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کی ایک بھرپور نشست منعقد ہوئی، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے مقررین سے علاقائی سلامتی، اجتماعی دفاع کے طریقۂ کار، خلیجی ریاستوں کے مستقبل، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے بدلتے توازن اور علاقائی امور میں پاکستان کے بدلتے ہوئے سفارتی کردار سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ اس موقع پر ہونے والے علمی تبادلے سے نوجوان محققین اور طلبہ کی عصرِ حاضر کی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کو علمی اور پالیسی کے تناظر میں سمجھنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی بھی نمایاں ہوئی۔