October 14, 2026

امریکی فوجی عدالت نے خالد شیخ محمد کے اہم اعترافات مسترد کر دیئے

Screenshot_2026-08-29_145629.662

امریکی فوجی عدالت نے خالد شیخ محمد کے اہم اعترافات مسترد کر دیئے

امریکی فوجی عدالت کے جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹرمائنڈ خالد شیخ محمد کی جانب سے 2007 میں ایف بی آئی کے سامنے دیے گئے اہم بیانات کو مقدمے میں بطور ثبوت استعمال کرنے سے روک دیا ہے

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ خالد شیخ محمد نے ایف بی آئی کے سامنے یہ بیانات رضاکارانہ طور پر دیئے تھے
جج کے مطابق ان بیانات کے پس منظر میں سی آئی اے کی حراست کے دوران ہونے والے تشدد، سخت تفتیش اور نفسیاتی دباؤ کے شواہد موجود ہیں

یہ فیصلہ امریکی استغاثہ کے لئے ایک اہم دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ 9/11 کیس میں خالد شیخ محمد کے بیانات طویل عرصے سے اہم شواہد میں شمار ہوتے رہے ہیں
تاہم عدالت نے خالد شیخ محمد کے تمام اعترافات یا مقدمے کے دیگر شواہد کو مسترد نہیں کیا بلکہ مخصوص 2007 کے ایف بی آئی بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے

خالد شیخ محمد کو 9/11 حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکزی ملزم قرار دیا جاتا ہے وہ دیگر تین ملزمان، ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی اور مصطفیٰ الحوساوی، کے ہمراہ گوانتانامو بے میں زیرِ حراست ہے

دریں اثنا، فوجی جج نے چاروں ملزمان کے مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کا حکم دیا ہے استغاثہ نے اس سے قبل جنوری 2027 میں ٹرائل شروع کرنے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے مقدمے سے قبل باقی قانونی اور شواہد سے متعلق تنازعات نمٹانے کے لیے مزید وقت ضروری قرار دیا

مقدمہ پہلے بھی کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہو چکا ہے اور تازہ فیصلے کے بعد بھی مذید قانونی چیلنجز کے باعث مقررہ تاریخ متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔ امریکی فوجی استغاثہ خالد شیخ محمد کے بیانات سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیل کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے

گوانتانامو میں 9/11 کیس گزشتہ دو دہائیوں سے قانونی پیچیدگیوں، حراست کے دوران مبینہ تشدد اور شواہد کے قابلِ قبول ہونے سے متعلق تنازعات کے باعث آگے نہیں بڑھ سکا #قصوریات