October 14, 2026

پیر گوٹھ درگاہ شریف پر کٹپر اور جویا برادریوں کے درمیان دو سال سے جاری خونریز تنازع کا فیصلہ، فریقین راضی، امن و بھائی چارے کے نئے دور کا آغاز

IMG-20260829-WA0136

پیر گوٹھ درگاہ شریف پر کٹپر اور جویا برادریوں کے درمیان دو سال سے جاری خونریز تنازع کا فیصلہ، فریقین راضی، امن و بھائی چارے کے نئے دور کا آغاز

سکھر (بیورورپورٹ) پیر گوٹھ درگاہ شریف میں کٹپر اور جویا برادریوں کے درمیان گزشتہ دو سال سے جاری خونریز تنازع کا فیصلہ معززین، معتبر شخصیات اور جرگے کی موجودگی میں کر دیا گیا، جس کے بعد دونوں فریقین نے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے باہمی بھائی چارے، امن اور احترام کے ساتھ رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ مذکورہ تنازع کے دوران دو افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے باعث علاقے میں طویل عرصے تک کشیدگی اور بے چینی کی فضا قائم رہی۔جرگے میں دونوں فریقین کے مؤقف تفصیل سے سننے کے بعد فیصلہ سنایا گیا کہ کٹپر برادری کے مقتول کے قتل کا الزام جویا برادری پر ثابت ہونے کے باعث جویا برادری پر 75 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے۔ جبکہ جویا برادری کے مقتول کے قتل کا الزام کٹپر برادری پر ثابت نہ ہو سکا، اس لیے اس معاملے میں کٹپر برادری کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔زخمیوں اور دیگر معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر جویا برادری پر 85 لاکھ روپے جبکہ کٹپر برادری پر 16 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم کٹپر برادری نے رواداری اور بھائی چارے کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جویا برادری کو 10 لاکھ روپے کی رعایت بھی دے دی۔ذرائع کے مطابق کٹپر اور جویا برادریوں کے درمیان تنازع کے خاتمے، خونریزی روکنے اور علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے کٹپر برادری کے سربراہ فقیر عقیل احمد کٹپر پر جویا برادری کی جانب سے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم تحقیقات اور قانونی کارروائی کے دوران یہ الزام ثابت نہ ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فقیر عقیل احمد کٹپر نے اپنی سماجی حیثیت اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مزید جانی نقصان روکنے اور مسئلے کے پرامن حل کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔جرگے کے فیصلے کے مطابق جویا برادری کے معززین کٹپر برادری کے پاس جا کر باقاعدہ معافی طلب کریں گے اور دونوں برادریوں کے درمیان پیدا ہونے والی رنجشوں اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ عدالتوں میں زیر سماعت تنازعات کے حوالے سے بھی جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔فیصلے کے اعلان کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور علاقے میں مستقل امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔علاقے کی سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیات سمیت جویا برادری کے سرداروں نے بھی فقیر عقیل احمد کٹپر کی امن و امان کے قیام، خونریزی کے خاتمے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیات معاشرے میں امن، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔