October 10, 2026

ملک خضر حیات ٹوانہ جو سر سکندر حیات کی1942 میں اچانک وفات کے بعد متحدہ پنجاب کے وزیراعلیٰ

Screenshot_2026-08-22_110646.268

ملک خضر حیات ٹوانہ جو سر سکندر حیات کی1942 میں اچانک وفات کے بعد متحدہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے ،تادم مرگ تقسیم ہند کے مخالف رہے۔قیام پاکستان کی مخالفت کے باعث مسلم لیگ کے جلسوں میں خضر حیات ٹوانہ کے خلاف شدید نعرے بازی ہوتی اورانہیں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کہا جاتا۔ خشونت سنگھ سمیت کئی مصنفین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک جلسے کے دوران حسبِ معمول خضر حیات کے خلاف نعرے لگ رہے تھے ’’تازہ خبر،مرگیا خضر‘‘۔اس دوران معلوم ہوا کہ یونینسٹ حکمران خضر حیات ٹوانہ نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے اور ہوائوں کا رُخ دیکھتے ہوئے قیام پاکستان کی مخالفت ترک کردی ہے تو نعروں کا انداز بدل گیا او ر وہی جوشیلے کارکن جو خضر حیات ٹوانہ کے مرنے کی خبر دے رہے تھے، باآوازبلند نعرے لگوانے لگے’’تازہ خبر آئی ہے ،خضر ہمارا بھائی ہے‘‘۔*یہ بھولی بسری داستان اور پرانی کہانی یوں یاد آئی کہ عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی طرف سے دائر کی گئی توہین عدالت کی پٹیشن میں محسن نقوی کو فریق ہی نہیں بنایا گیا حالانکہ بطور وزیر داخلہ اگر عدالتی احکامات نہ ماننے کی ذمہ داری انہی پہ عائد ہوتی ہے ۔تو اب تحریک انصاف کے کارکنوں کا نیا نعرہ یہ ہونا چاہئے “تازہ خبر آئی ہے ،محسن نقوی ہمارا بھائی ہے”*