11

فیصل آباد آر پی او صاحب کا قابل رشک کارنامہ

فیصل آباد آر پی او صاحب کا قابل رشک کارنامہ
قتل کی ایف آئی آر میں نامزد ملزم کو ایک ایم پی اے اپنی گاڑی میں لے کر دفتروں میں سفارشی بن کر پھر رہا تھا پہلے آئی جی کے پاس گیا اور پھر آئی جی نے سہیل صاحب کے پاس بھیجا وہاں ایم پی اے گیا تو آر پی او صاحب نے ویلکم کیا اٹھ کر ریسپیکٹ دی چائے پانی پوچھا رسمی باتوں کے بعد جناب ایم پی اے نے فرمایا بندہ بے گناہ کرو تو سہیل صاحب نے کہا یہ نہیں ہو سکتا ملزم ساتھ ہی تھا اور جناب ایم پی اے کی بات نہ مانی گئی تو وہ صوبائی کمیٹی میں پیش ہو گئے جہاں آرا کی او صاحب نے حقائق بیان کیئے جو پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ کیسے سیاسی اپنا اثر رسوخ جما کر اپنا کام نکالتے ہیں لیکن جہاں ایسے ایماندار افسر بیٹھے ہوں وہاں ان کی ایک بھی نہیں چلتی اب میرا ایک عوامی سوال ہے کہ جناب اس ایم پی اے کو پوچھنے والا کوئی نہیں جناب کیس عدالت میں ہے اور یہ آئی جی آفس میں قاتل کو بچانے کے لیے گھوم رہا ہے
جناب اعلی ایم پی اے صاحب قتل کے ملزم کو بچانے کے چکر میں ہیں قتل کے ملزم کو سپورٹ کرنا مطلب سہولت کاری کرنے کے مترادف ہے
آر پی او صاحب ژندہ آباد آپ نے حق ادا کر دیا
کمانڈر آر پی او سہیل اختر سکھیرا صاحب کو دبانے کی کوشش کی پھر پریشر ڈالا ان سب کے باوجود آر پی او صاحب ژندہ آباد عوامی آر پی او صاحب ہیں ضلع فیصل آباد کی عوام کے ہیرو ثابت ہو گئے آر پی او صاحب کے فیصلے کے بعد چیخیں نکل رہی ہیں چند کالی بھیڑوں کی دوکانداری بند ہو رہی اس لیے آر پی او صاحب کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی جو کمیٹی میں بھی تاحال آر پی او صاحب جیتتے نظر آ رہے ہیں
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویثرن کے مطابق کمانڈر سہیل اختر سکھیرا صاحب لیڈ کر رہے ہیں کوئی سفارش نہیں قانون کے مطابق انصاف ہو گا
ایسے اگر دو چار اور افسران مل جائیں تو ملک کا نظام تبدیل ہو سکتا ہے
تحریر امیر عبداللہ خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں