جیکب آباد (نامه نگار)قائدِ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کی 38ویں برسی پر جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیینؐ میں سیمینار
“رہبرِ شہید و قائدِ شہید، پیروِ حسین ابنِ علیؑ” کے عنوان سے سیمینار؛ مقررین کا قائدِ شہید کی فکر کو زندہ رکھنے کے عزم کا اظہار
جیکب آباد: قائدِ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کی 38ویں برسی کی مناسبت سے علامہ مقصود علی ڈومکی کی زیرصدارت جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیینؐ میں “رہبرِ شہید و قائدِ شہید، پیروِ حسین ابنِ علیؑ” کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا، جس سے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی، ایم ڈبلیو ایم یوتھ ونگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری برادر اللہ بخش سجادی، معروف سماجی رہنما ڈاکٹر نیاز ابڑو، مجلس علمائے مکتب اہل بیتؑ کے ضلعی صدر مولانا سیف علی بلوچ، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکریٹری تنظیم سازی مولانا منور حسین سولنگی، ایم ڈبلیو ایم ضلع جیکب آباد کے صدر نظیر حسین جعفری، جنرل سیکریٹری استاد خادم حسین بُرڑو اور وحدت یوتھ نصیرآباد ڈویژن کے صدر برادر رجب علی انقلابی نے خطاب کیا۔
سیمینار میں پ ٹ الف صوبہ سندھ کے سابق صدر استاد انتظار حسین چھلگری، سندھ دوست اتحاد کے رہنما سید خیر شاہ استاد محمد قاسم لہر اور دیگر مذہبی، سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ قائدِ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ نے ملتِ تشیع کو شعور، وحدت، مزاحمت اور اسلامِ ناب محمدیؐ کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو کسی خاص علاقے، قوم یا مسلک تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان کے مظلوم و محروم عوام کے حقوق، اسلامی وحدت اور نظامِ عدل کے لیے آواز بلند کی۔
انہوں نے کہا کہ قائدِ شہید کی فکر کا مرکز کربلا، امام حسینؑ کی سیرت اور ولایتِ اہل بیتؑ تھی۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں خاموش تماشائی بننے کے بجائے حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہی حقیقی حسینی کردار ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ قائدِ شہید کے افکار کو صرف تقریروں اور برسیوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی اجتماعی، سیاسی، معاشرتی اور تنظیمی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ “کربلا کربلا” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکتبِ فکر اور طرزِ زندگی ہے، جو ہمیں عزت، آزادی، استقامت، قربانی اور حق گوئی کا درس دیتا ہے۔
رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ انہوں نے بھی مکتبِ کربلا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ظلم، استکبار اور سامراجی تسلط کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ آج فلسطین، کشمیر، یمن اور دنیا کے دیگر مظلوم خطوں کے حالات ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور مظلوموں کی حمایت ہر حسینی انسان کی ذمہ داری ہے۔
برادر اللہ بخش سجادی نے کہا کہ قائدِ شہید نے نوجوان نسل کو دین، نظامِ ولایت، وحدتِ امت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور دیا۔ آج کے نوجوان جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے قائدِ شہید کے پیغام کو عام کریں اور فرقہ واریت، انتہا پسندی اور نفرت کے بجائے وحدتِ امت، علم، انقلابی شعور اور حسینی کردار کو فروغ دیں۔
ڈاکٹر نیاز ابڑو نے کہا کہ قائدِ شہید ایک بیدار فکر اور دردِ ملت رکھنے والی شخصیت تھے، جنہوں نے مظلوم اور محروم طبقات کے مسائل کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۔ آج ان کی تعلیمات ہمیں اتحاد، برداشت، خدمتِ خلق اور ظلم کے خلاف پرامن جدوجہد کا درس دیتی ہیں۔
مولانا سیف علی بلوچ نے کہا کہ قائدِ شہید کی زندگی قرآن، سیرتِ رسول اکرمؐ اور مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستگی کا عملی نمونہ تھی۔ عزاداریِ امام حسینؑ صرف سوگ کا نام نہیں بلکہ شعورِ کربلا اور پیغامِ حق و حریت سے وابستگی کا نام ہے۔
مولانا منور حسین سولنگی نے کہا کہ قائدِ شہید کی فکر نے پاکستان میں ملتِ تشیع کو سیاسی، دینی اور اجتماعی شعور عطا کیا۔ آج بھی ملک کو فرقہ واریت اور نفرت نہیں بلکہ وحدتِ امت، آئین و قانون کی بالادستی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضرورت ہے۔
نظیر حسین جعفری نے کہا کہ قائدِ شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ کی قربانی ملت کے لیے سرمایہ ہے۔ شہداء کا خون ہمیں یہ ذمہ داری یاد دلاتا ہے کہ ہم حق، عدالت اور مظلوم کی حمایت کے راستے سے پیچھے نہ ہٹیں۔
استاد خادم حسین بُرڑو نے کہا کہ آج ضرورت ہے کہ قائدِ شہید کے افکار کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے اور معاشرے میں امن، بھائی چارے اور وحدت کو فروغ دیا جائے۔
برادر رجب علی انقلابی نے کہا کہ کربلا آج بھی زندہ ہے اور حسینی فکر ظالم قوتوں کے مقابلے میں مظلوموں کو حوصلہ دیتی ہے۔ نوجوان قائدِ شہید کے پیغام کو اپنا کر علم، کردار، تنظیم اور خدمت کے میدان میں آگے بڑھیں۔
کربلا سے فلسطین تک حسینی فکر کا تسلسل
سیمینار کے مقررین نے کہا کہ فلسطین سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں جاری ظلم و بربریت عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ مظلوم کا ساتھ دینا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان اور انسانی ضمیر کا تقاضا ہے۔
مقررین نے کہا کہ رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور قائدِ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کی جدوجہد کا بنیادی پیغام قرآن کریم کی تعلیمات کا فروغ، نظامِ ولایت کی سربلندی، وحدتِ امت، آزادی، عدل، مظلومین کی حمایت اور استکبار کے خلاف مزاحمت تھا، جسے آج بھی زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
سیمینار کے اختتام پر قائدِ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں اور تمام شہدائے اسلام و وطن کے درجات کی بلندی، مظلومینِ عالم کی نصرت، پاکستان کے امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
جاری کردہ: مجلس وحدت مسلمین سندھ