*قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے زیر اہتمام لوک ورثہ اور Centre of Execellence for National Cohesion کے تعاون سے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس، اسلام آباد میں قومی ثقافتی بیانیے ” نقوش وطن” کی افتتاحی تقریب کا انعقاد*
اسلام آباد (رپورٹ: جاوید صدیقی) قومی ثقافتی بیانیے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد میں نمائش میں قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ماتحت اداروں نے شرکت کی جس میں ادارہ فروغ قومی زبان کے فیلڈ دفتر اردو لغت بورڈ کراچی نے بھی اپنی مطبوعات کی نمائش کیں۔ گورنر سندھ سید نہال ہاشمی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگ زیب خان کھچی، وزیر مملکت برائے وزارت وفاقی تعلیم اور یشہ ورانہ تربیت وجیہ قمر، پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت فرح ناز اکبر، سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی، پاکستان میں اردن کے سفیر ڈاکٹر معین خراسات، خانہ ٔ فرہنگ ایران راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مہدی طاہری، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ایگزیکیٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم، ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے ایوب جمالی، کوآرڈینیٹر وزیراعظم یوتھ پروگرام سندھ ڈاکٹر فہد شفیق، راجہ سہیل کیانی و دیگر معزز شرکائے تقریب نے اردو لغت بورڈ، کراچی کے اسٹال کا دورہ کیا، اس موقع پر انھیں قومی ٹقافتی بیانیے “نقوش وطن” کی مناسبت سے مشاہیر اردو لغت کے عنوان سے جاری کردہ خصوصی بک مارک سیریز کا سیٹ بھی پیش کیا گیا۔ اس سیریز میں بابائے اردو مولوی عبد الحق، جوش ملیح آبادی، شان الحق حقی، جون ایلیا، فہمیدہ ریاض، ڈاکٹر جمیل جالبی، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی اور نسیم امروہوی کے نام پر بک مارک شامل ہیں۔ اسٹال کا دورہ کرنے والے معزز مہمانان گرامی کو ادارے کی بائیس جلدوں پر مشتمل تاریخی اصول پر مرتب کردہ لغت کا تعارف پیش کیا گیا اور ادارے کی حالیہ کارکردگی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ طلبہ و طالبات اور مندوبین کی کثیر تعداد نے ادارے کی مطبوعات کا جائزہ لیا اور کتب کی خریداری بھی کی۔ نمائش میں ادارے کی جانب سے آویزاں فوٹو فریم پر شرکائے تقریب نے خصوصی دلچسپی لی اور اسکے ساتھ تصویر کھنچوائی، اس فریم میں “نقوش وطن” کی مناسبت سے ہر پھول ہے چمن کے لیے زینت چمن کے تصور کے تحت اردو اور پاکستانی زبانوں کے نام درج تھے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں تقریبا ستر زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کے تعارف کے لیے جن چوبیس زبانوں کا انتخاب کیا گیا وہی زبانیں اس فریم کے لیے بھی اختیار کی گئیں۔