افسانہ
دوسری بیوی
ملیحہ ماجد نے رخصتی کے وقت جب اپنے گھر کی دہلیز پہ اپنی نگاہ بے بسی ڈالی تو اس کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔اماں نے اسے سینے سے لگایا ،بابا نے کپکپاتے ہاتھوں سے دعا دی اور بھایئوں نے دانستہ طور پہ نظریں چرا لیں کہ کہیں آنسو،آنکھوں کی فصیل توڑ کر باہر نہ آ جایئں۔وہ من موہنی صورت والی اٹھارہ سالہ لڑکی،بابل کی دہلیز سے خوابوں کی ایک وزنی گٹھڑی سر پہ لادے رخصت ہوئ تھی۔پیا کے گھر پہنچتے ہی اس کا استقبال کسی شہزادی کی طرح سے ہوا تھا۔گلاب اور چنبیلی کی نچھاور کی جانے والی پتیوں نے سارے ماحول کو معطر کر دیا تھا اور اس فقرے کی تکرار نے تو ملیحہ ماجد کو تھوڑا سا مغرور کر ہی دیا تھا کہ چاند سی دولہن آئ ہے۔یحی منصور کی تو مانو قسمت ہی کھل گئی،ملیحہ ہر توصیفی فقرے پہ سر جھکا لیتی۔چند لمحوں کے لیے اسے ایسا لگا جیسے وہ پرستان کی شہزادی ہو اور کسی اڑن طشتری میں بیٹھ کر خوابوں کے دیس میں اتر آئ ہو۔۔۔۔۔۔۔مگر یہ پرستان اور خواب نگر چند لمحوں میں ہی شیشے کی پلیٹ کی طرح ٹوٹ کے چکنا چور ہو چکا تھا.رات گیۓ جب شادی کی ساری رسومات سے فارغ ہو کے وہ حجلہ عروسی میں سر جھکاۓ بیٹھی تھی،اس کی دھڑکن کی رفتار تیز اور اسے اپنی سانسوں کی اتھل پتھل واضح سنائ دیتی تھی کہ شعیب منظور ہاتھ میں کنگ سائز کے مخملیں ڈبے کے ساتھ داخل ہوا۔۔۔۔۔۔یہ تمہاری منہ دکھائ ہے۔۔۔لشکارے مارتا انتہائ وزنی ڈائمنڈ سیٹ جس کی مالیت کروڑوں میں تھی۔ایک پل کو ملیحہ کو اپنی قسمت پہ رشک ہوا جی صرف ایکُ پل کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اگلے ہی پل یحی نے جو کہا اس نے پرستان کی شہزادی کو تخت سے فرش پہ لا پٹخا؛خوابوں کی گٹھری ،ذمہ داریوں کی گٹھری سے بدلی جا چکی تھی۔ملیحہ منظور تم میری دوسری بیوی ہو۔۔۔۔۔۔۔ملیحہ کے ہاتھ کانپ گیۓ—————-کیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
شادی میرا مسلہ نہ تھی دراصل مجھے اپنی برسوں
سے بیمار bed ridden والدہ کے لیۓ کسی مخلص تیمادار کی ضرورت تھی۔اور آپ نے اتنی تلخ سچائ ہم سب سے چھپائ۔۔۔۔۔۔اب کہ یحی خاموش رہا لیکن یحی کی اس پر اسرار چپ سے پرستان کی شہزادی کو اپنے سوال کا جوب تو ملا سو ملا،اپنی اوقات بھی خوب پتا چل گئی ،اگلی صبح اسے ،ساسو ماں کے کمرے میں لے جایا گیا۔ان کی آنکھوں میں ایک عجب سی بے بسی اور محرومی تھی جیسے کسی معزول بادشاہ کی آنکھوں کی محرومی اور بےُبسی۔۔۔۔۔مطلبُ سانسوں کی آنی جانی کے ساتھ والی موت۔ملیحہ نے ادب سے ا
6









