ملیحہ نے ادب سے اپنی ساس کو سلام کیا،بوڑھی اور لاچار عورت نے کانپتے ہاتھوں سے ملیحہ کے سر کوچھوا اور گلو گیر لہجے میں کہا، مجھے معاف کر دینا
ملیحہ نے ادب سے اپنی ساس کو سلام کیا،بوڑھی اور لاچار عورت نے کانپتے ہاتھوں سے ملیحہ کے سر کوچھوا اور گلو گیر لہجے میں کہا، مجھے معاف کر دینا بیٹی۔۔۔۔۔۔ملیحہ چونک گیی،کس بات کے لیے ماں جی؟؟؟؟؟بوڑھی عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ کسی غریب لڑکی سے شادی کر لے تاکہ میری خدمت ہو سکے لیکن میں نے اسے دھوکہ دینے کو نہیں کہا تھا۔ملیحہ کا دل بھر آیا پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ گھر میں کچھ رحمدل لوگ بھی موجود ہیں۔دن گزرتے گیۓ،ملیحہ دل و جان سے ساس کی خدمت میں لگی رہی۔کھانا پینا،صفائ ستھرائ’دوا دارو ،غرض اس نے اپنی ساس کی اتنی خدمت کی کہ سرخرو ہو گئی لیکن یحی سے اس کا رشتہ محض ایک دیوار جیسا تھا نہ شکوہ نہ محبت بس ایک درازی خاموشی جو ملیحہ نے چادر کی بکل کی طرح اپنے پورے وجود پہ اوڑھ رکھی تھی۔ایک دن اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ یحی سے سوال کیا اگر آپ کو صرف خدمتگار کی ضرورت تھی تو کوئ ملازمہ رکھ لیتے۔۔۔۔۔
یحی کے پاس اس سوال کا کوئ جوابُ نہ تھا۔کچھ دنوں کے بعد ماں جی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ایک رات انھوں نے نیم غنودگی میں ملیحہ کا ہاتھ