12

*معاشرے ماؤں کی گود میں پلتے ہیں۔۔۔۔*

*معاشرے ماؤں کی گود میں پلتے ہیں۔۔۔۔*

ماں محض ایک جینیاتی تعلق یا خون کا رشتہ نہیں؛ بلکہ وہ زندگی، محبت، اور تحفظ کا وہ لازوال چشمہ ہے جس سے انسانیت پہلا دودھ پیتی ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ ‘میں’ کے افق سے نکل کر ‘ہم’ کی وسعتوں میں قدم رکھتا ہے۔ خاندانی نظام کا استحکام اور ایک مہذب معاشرے کی بنیاد اسی مقدس خواتین کی رحمتوں پر استوار ہے۔ اس کا جسمانی لمس روح کو سنوارتا ہے، اور اس کی قلبی دعائیں تقدیر کو بھی بدل دیتی ہیں۔ جس معاشرے کی خواتین(مائیں) بیدار مغز اور پاکیزہ کردار کی حامل ہوں، وہ معاشرہ ترقی، امن اور رحمت کا گہوارہ بنتا ہے، ورنہ وہ انتشار اور بےرحمی کی بھٹی میں پگھل جاتا ہے۔
انسانی تمدن میں شادی کا رواج ایک سماجی دستاویز (Contract) کی صورت میں آیا، جو روایات اور قوانین کی پابند ہے۔ لیکن اگر ہم اس رشتے کی گہرائی میں اتریں تو حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ شادی ایک معاہدہ (Contract) ہے، جبکہ نکاح ایک عہد (Covenant) ہے۔
معاہدہ عدالتوں، کاغذات اور شرائط کا محتاج ہے؛ یہ ظاہری پابندی تو عائد کر سکتا ہے، مگر دلوں کی تلخی، بدگمانی اور سردمہری کو نہیں روک سکتا۔ لیکن عہد الٰہی کا معاملہ اس کے برعکس ہے—یہ عدالت سے نہیں، اللہ تعالٰی عزوجل کی (سیرت النبی) بارگاہ سے منسلک ہے۔ یہ تقویٰ، ایثار اور درگزر کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اسی عہد کو “سکون، محبت اور رحمت” قرار دے کر اسے عالمِ مادیت سے ماورا کر دیا۔ معاہدے میں جیت اور ہار ہوتی ہے، جبکہ عہد میں قربانی اور بقاء ہوتی ہے۔

یہاں وہ بنیادی “نکتۂ عظمت” کھل کر سامنے آتا ہے کہ “معاشرے ماؤں کی آغوش میں پلتے ہیں”۔ اے-آئی کیمرے عدالتیں اور پولیس انسان کے اعمال کو باہر سے کنٹرول کرتی ہیں، جبکہ ماں کی گود انسان کے داخلی ضمیر (Conscience) کی معمار ہے۔
اگر بچے کو یہی سکھایا جائے کہ رشتے حقوق اور مفادات کا میدانِ جنگ ہیں، تو وہ بڑا ہو کر ہر تعلق کو سودے بازی سمجھے گا۔ لیکن جب ماں اپنی اولاد کو نکاح کے اس الٰہی عہد، ایثار، اور احترامِ کبریٰ کی راہ پر گامزن کرتی ہے، تو وہ اس کے اندر اللہ کا خوف اور ضمیر کی بیداری اس طرح پروان چڑھاتی ہے جیسے مٹی سے پھول کھلتا ہے۔ یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جو فرد کو صرف ‘انسان’ نہیں، بلکہ ‘انسانِ کامل’ بناتا ہے۔
آج یہی مقدس سلسلہ ٹوٹ گیا ہے، پہلے انسانی ضمیر خواتین(ماں) کی بنیادی تعلیمات(لوری) سے بنتا اور سنورتا تھا۔ آج وہی ضمیر TikTok اور انسٹاگرام کی فیڈ (FYP) سے ڈھلتا ہے۔ جو وائرل، وہی صحیح؛ جو کینسل، وہی غلط۔ نتیجہ: اخلاقیات ہر پندرہ سیکنڈ بعد اپنا رنگ بدل لیتی ہیں، اور پختہ اقدار کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔
نمبر، فالوورز اور پیسے—انہی تین چیزوں کو ہم نے کامیابی کا معیار بنا دیا۔ کبھی کسی نے بچے سے نہیں پوچھا: “کیا تو سچا ہے؟ کیا تیرا دل رحم والا ہے؟ کیا تو وفادار ہے؟” نتیجہ: بچے نے جان لیا کہ عزت کردار سے نہیں، کام سے آتی ہے۔ پھر چاہے جھوٹ بولنا پڑے، بشرطیکہ کام ہو جائے۔
جب دس سال کا بچہ ChatGPT یا DeepSeek سے لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کر لیتا ہے، تو وہ ماں کے تجربے کو ‘پچھلی صدی کی باتیں’ (Boomer Talk) قرار دیتا ہے۔ دادی اماں کے قصے، نانی کے اسباق، ابا جان کی نصیحتیں—سب ‘آؤٹ ڈیٹڈ’ ہو کر رہ گئے۔ نتیجہ: رہنمائی کا تمام تر چینل منقطع ہو گیا، اور اب ہر نوجوان اپنا آپ ہی اپنا استاد شیخ اور مرشد ہے۔
پہلے غلطی ہوتی تو پڑوس کے چار بزرگ یا استاد گرفت کر لیتے۔ آج غلطی کرو، اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرو، اور کل نیا جنم لو۔ آن لائن گالی دو، بلاک کرو؛ رشتہ توڑو، ‘میوٹ’ کر دو۔ نتیجہ اپنے افعال کے انجام کا خوف ہی ختم ہو گیا، اور انسان بےلگام ہو کر رہ گیا۔
سچ، جھوٹ، حلال، حرام… ان تمام شرعی اور اخلاقی حدود کا فیصلہ اب ایک ہی سوال سے ہوتا ہے: “اس وقت مجھے اس سے کیا نفع ہو رہا ہے؟”
موجودہ نوجوان—خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی—ایک بھٹکا ہوا، تھکا ہارا مسافر ہے۔ اسے کبھی سکھایا ہی نہیں گیا کہ “انسان ہونے” کا کیا مطلب ہے؛ اسے صرف “کامیاب ہونے” کا نسخہ پڑھایا گیا۔ طبقاتی کشمکش، دوڑ کی بےمعنی ہنگامہ، بےسکونی، مہنگائی، اور مستقبل کا اندیشہ—ان تمام پہاڑوں تلے دبا یہ نوجوان اخلاقیات کو پیٹھ پیچھے ڈال کر، حلال و حرام کی تمیز کھو کر، محض اپنی جلد بچانے میں لگا ہے۔ یہ کوئی سادہ جھوٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ دراصل اس کے ضمیر کا ستیاناس اور اس کی روح کا جنازہ ہے۔ ایسے نظام میں جہاں جوابدہی کا نام و نشان نہ ہو، وہاں اخلاق کا خون ہو جاتا ہے۔

واحد علاج—ماؤں کی (مقدس) آغوش کی طرف واپسی

انتہا پسندی (Extremism) کا مطلب صرف کلاشنکوف اٹھانا نہیں؛ بلکہ یہ رویوں کی وہ سختی اور عدمِ رواداری ہے جو اس وقت جنم لیتی ہے جب رشتوں، نظریات اور معاشرت سے ‘عہد’ اور ‘میانہ روی’ کا عنصر نکل جائے۔
معاشرے کا امن نہ تو عدالتی کاغذات سے بچایا جا سکتا ہے، نہ ہی تشدد اور جبر سے انتہا پسندی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس وبا کا واحد اور آخری علاج یہ ہے کہ رشتوں کو نکاح کے اس الٰہی عہد پر استوار کیا جائے، اور سب سے بڑھ کر—ماؤں کی مقدس گودوں کو دوبارہ بیدار کیا جائے۔
کیونکہ جب عورت (ماں) اپنے بچے کو صرف دودھ نہیں، بلکہ ‘عہدِ وفا’ کا سبق پلائے گی؛ جب وہ اسے قانون کا نہیں بلکہ خالقِ کائنات کا ادب سکھائے گی—تبھی اس مقدس تربیت سے ایسے پرامن، بااخلاق اور متوازن انسان جنم لیں گے جو اس دھرتی کو پھر سے رحمت، محبت اور مستحکم امن کا گہوارہ بنا دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں