تلہ گنگ میں 17 سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل: بہنوئی ہی قاتل نکلا
چکوال پولیس نے تلہ گنگ کے قریب گاؤں موگلہ کی ڈھوک ڈالی میں پیش آنے والے 17 سالہ لڑکی کے اندھے قتل کے واقعے کا چار دن کے اندر اندر سراغ لگا کر اصل ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقتولہ کی والدہ کے انتقال اور والد کی دوسری شادی کے بعد وہ گزشتہ سات آٹھ سال سے ایک رشتہ دار کے گھر مقیم تھی، جبکہ اسے قتل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا بہنوئی نکلا۔
قتل کی ہولناک وجہ اور پس منظر
پولیس تحقیقات کے مطابق ملزم کا تعلق اٹک سے ہے اور وہ مقتولہ کی بڑی بہن کا شوهر ہونے کے ساتھ دو بچوں کا باپ بھی ہے۔ ملزم کے اپنی سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار ہو چکے تھے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ لڑکی کو پنڈی گھیب لے گیا جہاں ایک مقامی مولوی سے نکاح کی درخواست کی گئی، تاہم مولوی نے اسلامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ پہلی بیوی کے زندہ ہوتے ہوئے دوسری سالی سے نکاح نہیں ہو سکتا، اور ساتھ ہی لڑکی کی کم عمری بھی اس میں رکاوٹ تھی۔
پیش آنے والا دلخراش واقعہ
نکاح کی کوشش میں ناکامی کے بعد ملزم 30 جولائی کی رات لڑکی کو واپس تلہ گنگ لے کر آیا۔ جب وہ گاؤں کے قریب پہنچے تو مقتولہ نے اپنے گھر واپس جانے اور حالات سے سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ملزم نے پہلے اسے زبردستی گھر لے جانے کی کوشش کی، لیکن جب لڑکی نہ مانی تو اس نے غصے میں آ کر سر پر پتھر مارا اور گلا گھونٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم نے لاش کو قریبی دربار کے پاس پھینکا اور شناخت چھپانے کے لیے اسے گھاس سے ڈھانپ دیا۔
پولیس کی بروقت کارروائی اور ملزم کی گرفتاری
مقتولہ 24 اور 25 جولائی کی درمیانی رات کو لاپتہ ہوئی تھی جبکہ اس کی لاش 31 جولائی کو برآمد ہوئی۔ ملزم انتہائی شاطر نکلا جو تفتیش کے لیے آنے والے پولیس افسران کی خاطر تواضع کرتا اور خود انہیں پانی پیش کرتا رہا۔ ابتدائی طور پر اس نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ مقتولہ موبائل فون استعمال نہیں کرتی تھی، تاہم مقتولہ کی بہن سے پوچھ گچھ کے دوران موبائل فون کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ اسی اہم ڈیجیٹل سراغ اور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت ڈی پی او کاشف ذوالفقار اور ڈی ایس پی تلہ گنگ عبدالعزیز کی نگرانی میں قاتل کا سراغ لگا کر اسے قانون کی گرفت میں لایا گیا۔
24









