October 14, 2026

شانگلہ کے اس بزرگ کی تصویر دیکھ کر کوئی بھی حساس انسان چند لمحوں کے لیے رک جائے۔ اس شخص

IMG-20260803-WA0241

شانگلہ کے اس بزرگ کی تصویر دیکھ کر کوئی بھی حساس انسان چند لمحوں کے لیے رک جائے۔ اس شخص نے بلوچستان کے سیورنج کوئلہ کان حاد۔ثے میں اپنے تین جوان بیٹے، ایک بھائی اور ایک بھانجے کو کھو دیا ہے۔ ایک ہی گھر سے اتنے جناز۔ے اٹھانا کتنا مشکل ہے۔۔۔۔! خدا کسی کو نہ دکھائے۔۔ ان کے درد کو الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔۔۔

ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ ‘یہ لوگ تو مستی کے لیے کوئلہ کانوں میں جاتے ہیں’ تو یہ ان ہزاروں خاندانوں کی تذلیل ہے جو مجبوری، غربت اور بے بسی کے ہاتھوں اپنے پیاروں کو ہر سال مو۔ت کے منہ میں بھیجتے ہیں۔

شانگلہ کا شمار صوبے کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو قدرتی حسن سے مالا مال تو ہیں لیکن ترقی کے سفر میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہاں کے بیشتر نوجوانوں کے سامنے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صنعت، فیکٹریاں، بڑے کاروبار اور نجی شعبے میں ملازمتیں۔۔ کچھ بھی نہیں ہے۔۔ تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان بھی اکثر بے روزگاری کی طویل قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔

سڑکوں کا نظام آج بھی کئی علاقوں میں اس معیار کا نہیں کہ لوگ آسانی سے ہسپتال، کالج یا بازار تک پہنچ سکیں۔ بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ معمول کی زندگی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ کئی دیہات ایسے ہیں جہاں بنیادی سفری سہولیات تک میسر نہیں۔

تعلیم کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ بہت سے علاقوں میں سکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔ بچیوں کی تعلیم کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ کئی خاندان صرف اس لیے اپنی بیٹیوں کی تعلیم روک دیتے ہیں کہ قریب کوئی ہائی سکول یا کالج موجود نہیں یا وہاں تک محفوظ رسائی تک ممکن نہیں۔۔۔

صحت کے شعبے کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ خدانخواستہ کسی بڑے حاد۔ثے یا پیچیدہ بیماری کے اکثر مریض گھنٹوں دور کسی دوسرے ضلع یا شہر جانے پر مجبور ہیں۔ کئی بار راستے ہی میں زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

سرکاری ملازمتیں غریب خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہو سکتی تھیں لیکن یہاں بھی میرٹ کی بجائے سیاسی اثر و رسوخ، سفارش اور با اثر حلقوں کی مداخلت اکثر نوجوانوں کو مایوس کر جاتی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے فیصلے ‘سیاسی ڈیروں’ میں ہوتے ہیں۔ جب ایک نوجوان بار بار ناکامی، بے روزگاری اور ناانصافی دیکھتا ہے تو اس کے پاس خطرناک کوئلہ کانوں میں مزدوری کرنے کے علاوہ آخر کونسا آپشن موجود ہوتا ہے؟

اسی لیے شانگلہ کے ہزاروں مزدور ہر سال بلوچستان کی کوئلہ کانوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ سیاحت یا شوق کے لیے نہیں جاتے۔ وہ مستی کے لیے نہیں جاتے۔ وہ اس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ چند ہزار روپے کما کر اپنے بچوں کی فیس ادا کر سکیں گے، بوڑھے والدین کی دوا خرید سکیں، گھر کا راشن لے سکیں یا اپنی بہن اور بیٹی کی شادی کا بندوبست کر سکیں یا اہنی شادی کا بندوبست کر سکیں گے۔