August 28, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

* کراچی کے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی پراسرار موت کی کہانی*

IMG-20260803-WA0242
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

* کراچی کے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی پراسرار موت کی کہانی*

*تحریر: فیض اللہ خان*

کراچی کے نوجوان میر رضا کی پراسرار موت کی گتھی سلجھ رہی ہے، مگر ابھی حتمی شواہد باقی ہیں۔ اب تک کی تحقیقات اسے خودکشی ظاہر کرتی ہیں، مگر پولیس کس بنیاد پر یہ کہہ رہی ہے، اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس رات کے آخری پہر، جب میر رضا لگ بھگ چار بجے آن لائن ٹیکسی کرکے نکلا، تو وہ والد کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر چکا تھا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی ڈیلیٹ کر چکا تھا۔ {ہمارے دوست کرائم رپورٹر بابر سلیم نے البتہ اپنے ولاگ میں سوال اٹھایا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کسی نے اس کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرائے ہوں، خیر۔} میر رضا کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو مل چکی ہے، جس میں وہ اپنی دکان سے گارڈ کا رکھا ہوا پستول لے کر نکل رہا تھا۔ دکان بند ہوتے وقت گارڈ پستول وہیں رکھ کر جاتا تھا، اور پستول بھی اسی گارڈ کے نام پر ہے۔

ٹیکسی میں سفر کے دوران میر رضا بلند آواز میں گانے سن رہا تھا۔ اس وقت فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ میں نے نوجوان سے کہا کہ گانے بند کر دے، کیونکہ اذانیں ہو رہی ہیں، تو میر رضا نے کہا، “خیر ہے”، جس پر ڈرائیور خاموش ہوگیا۔

اگلی ویڈیو میں شارٹس پہنے نوجوان گلستان بلاک ون، یونیورسٹی روڈ کے قریب نرسری، جھاڑیوں اور قدرے بلندی کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے، اور وہ تنہا ہوتا ہے۔ میر رضا کو لگنے والی گولی سینے پر رکھ کر ماری گئی۔ اس کا بارود بھی سینے پر پھیلا ہوا ہے، مگر ابھی تک پولیس کو پستول ملا ہے، نہ ہی خول۔ البتہ پستول کا ہولسٹر مل گیا تھا، مگر جس آلے سے موت ہوئی، وہ غائب ہے، اور خودکشی ثابت کرنے کے لیے ان شواہد کی موجودگی لازم ہے۔

میر رضا کا آئی فون یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے مزدوروں سے پولیس نے برآمد کر لیا۔ {راستے میں پڑی چیز اٹھانے سے ہی بزرگ منع کرتے ہیں، آدمی چلتے پھرتے جھگڑے میں دھر لیا جاتا ہے۔} تحقیقات میں موبائل چھینے جانے کے شواہد نہیں ملے۔ اس معاملے سے جڑا ایک بڑا سوال یہ تھا کہ اس نوجوان کا چہرہ کیسے خراب ہوا؟ تصویر دیکھ کر ابتدا میں اسے تشدد سمجھا گیا، مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کہتی ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا تو کراچی میں شدید گرمی اور حبس تھا، جس نے نقصان پہنچایا۔ دوسرا، قریب ہی نرسریاں ہیں، جہاں کھاد پر پلنے والے حشرات الارض، جو بہت خطرناک ہوتے ہیں، انہوں نے بھی چہرے کو خراب کیا۔

اب اصل وہ معاملہ ہے جس نے ایک نوجوان کو یہاں تک پہنچایا، اور وہ ہے آج کے نوجوانوں کو لگنے والی شارٹ کٹ طریقے سے پیسہ کمانے کی لت، جسے ڈیجیٹل کرنسی کہتے ہیں۔ پولیس کو دورانِ تحقیقات پتا چلا ہے کہ میر رضا نے ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے اور دوسروں کے تقریباً پانچ کروڑ روپے لگا رکھے تھے، مگر تین، چار ماہ قبل ہونے والے نقصان کے بعد وہ شدید ڈپریشن میں تھا۔ اپریل کے مہینے سے اس نے سرمایہ کاروں کو منافع دینا چھوڑ دیا تھا۔ یقیناً ان کا دباؤ بھی منافع اور رقم کی واپسی کے لیے ہوگا۔ اس عرصے میں میر رضا نے دوستوں سے بھاری قرض بھی مانگا، مگر اسے نہ مل سکا، اور اب تک کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہی معاملہ اسے اس ذہنی دباؤ کے نیچے لے آیا، جو ایک المناک موت کی طرف لے گیا۔

میر رضا کے پاس سرمایہ لگانے والے جب تک سامنے نہیں آتے، یہ معاملہ مکمل نہیں ہوگا۔ بہرحال، ابھی تک یہ اغوا برائے تاوان کا معاملہ نہیں ہے۔ اسی طرح ذاتی دشمنی وغیرہ کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔ یہ تمام صورتحال اب تک کی تحقیقات پر مبنی ہے، اور حتمی تحقیق کے بعد ہی پوری تصویر واضح ہو سکے گی۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0