*عشق کی انتہا… موت بھی ملی تو جنت کے ٹکڑے میں!*
*عشق کی انتہا… موت بھی ملی تو جنت کے ٹکڑے میں!*
آج دل رنجیدہ بھی ہے اور ایک مومن کی قسمت پر رشک بھی آ رہا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی خوش نصیب زائر دورانِ عمرہ/زیارت، مسجدِ نبوی ﷺ کے سب سے مقدس حصے “ریاض الجنہ” (Rawdah al-Sharifah) میں سجدے کی حالت میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ذرا تصور کیجیے اس منظر کا…پاؤں جنت کے ٹکڑے پر ہوں، سر محبوبِ خدا ﷺ کی چوکھٹ پر سجدے میں جھکا ہو، زبان پر درود و سلام ہو اور روح پرواز کر جائے! موت تو سب کو آنی ہے، لیکن ایسی موت؟ یہ صرف نصیب کی بات ہے۔
جس جگہ کے بارے میں آقا علیہ السلام نے فرمایا: “میرے گھر اور میرے منبر کا درمیانی حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے”، اسی باغ میں بیٹھ کر ایک امتی نے اپنی آخری سانسیں اپنے نبی ﷺ کے حضور پیش کر دیں۔
یقیناً یہ کسی غریب الوطنی کی موت نہیں، یہ تو اپنے اصل گھر پہنچنے کی داستان ہے۔ اللہ پاک نے ان کی محبت، ان کے آنسو اور ان کی تڑپ کو قبول فرمایا اور انہیں وہ مقام دیا جس کی تمنا دنیا کا ہر مسلمان کرتا ہے۔الٰہی! ہمیں بھی ایسی ہی باوضو، ایمان والی اور مدینے پاک کی موت نصیب فرما۔ آمین۔