سکھر ہائی کورٹ نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے این آئی ٹی منصوبوں پر کام روکنے کا حکم دے دیا، نیب یا ایف آئی اے انکوائری کا عندیہ
سکھر(بیورورپورٹ)سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں آئینی درخواست سی پی نمبر 899/2026 کی سماعت آج معزز جسٹس ذوالفقار علی سانگی اور معزز جسٹس ارباب علی پر مشتمل آئینی بینچ نے کی۔ یہ درخواست سرکاری ٹھیکیدار خالد خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔سماعت کے دوران پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینئر برکت خواجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے ابتدائی طور پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیرِ بحث این آئی ٹی (NIT) کے تمام کام فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کر دیا۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) یا فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کا عندیہ بھی دیا، تاکہ ٹینڈرنگ کے عمل اور دیگر انتظامی معاملات کی شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔درخواست گزار کے وکیل آغا صورت علی خان نے عدالت کو بتایا کہ سی آر سی (CRC) کا فیصلہ 16 فروری 2026 کو جاری کیا گیا، جبکہ ورک آرڈرز 13 فروری 2026 کو، یعنی اپیل کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی جاری کر دیے گئے۔ ان کے مطابق یہ عمل پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی ٹینڈرنگ اور خریداری کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیل کی مدت ختم ہونے سے قبل ورک آرڈرز جاری کرنا نہ صرف قواعد و ضوابط سے متصادم ہے بلکہ اس سے شفافیت اور میرٹ کے اصول بھی متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی، جبکہ این آئی ٹی کے تحت جاری تمام کام روکنے کا حکم برقرار رکھا۔ عدالت کی جانب سے نیب یا ایف آئی اے کے ذریعے انکوائری کرانے کے امکان نے اس مقدمے کو مزید اہمیت دے دی ہے۔