باب المندب کی بندش اور پاکستان:
حقائق، افواہیں اور معاشی حقائق
سوشل میڈیا پر اکثر اوقات بین الاقوامی بحرانوں کی آڑ میں سنسنی خیز اور غیر مصدقہ اطلاعات وائرل کر دی جاتی ہیں۔
اس وقت بابِ المندب
(Bab-el-Mandeb)
اور آبنائے ہرمز
(Strait of Hormuz)
کے حوالے سے تیل کے بحران اور گاڑیوں کی امپورٹ سے متعلق ایک تحریر گردش کر رہی ہے۔
آئیے اس تحریر کا تفصیلی اور مدلل جائزہ لیتے ہیں:
۱. تیل کی قیمتیں اور آبنائے ہرمز بمقابلہ باب المندب
تحریر کا دعویٰ:
تیل کی موجودہ قیمتیں آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ہیں اور باب المندب میں ٹینکرز پر حملوں سے قیمتیں دگنی ہو جائیں گی۔
حقیقت اور تجزیہ:
آبنائے ہرمز:
دنیا کے تیل کی کل بحری سپلائی کا تقریباً 20% حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
یہ خلیج فارس کو دنیا سے جوڑتی ہے
اور سعودی عرب، عراق، کویت، اور ایران کے تیل کا مرکزی راستہ ہے۔
اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے تو عالمی سطح پر تیل کا ایک بڑا بحران پیدا ہوگا
اور قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ یقینی ہے۔
باب المندب:
یہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور خلیج عدن کے درمیان کا راستہ ہے جو سوئز نہر کے ذریعے یورپ اور ایشیا کو جوڑتا ہے۔
باب المندب پر کشیدگی سے بحری جہازوں کو افریقہ کے گرد
(Cape of Good Hope)
لمبا چکر لگانا پڑتا ہے،
جس سے شپنگ کے کرایے اور انشورنس میں اضافہ ہوتا ہے۔
باب المندب میں عدم استحکام سے قیمتوں پر اثر ضرور پڑتا ہے، لیکن
عالمی اور پاکستانی مارکیٹ کے لیے زیادہ ہولناک صورتحال آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہوتی ہے۔
۲. سعودی عرب سے پاکستان کو تیل کی سپلائی کا معاملہ
تحریر کا دعویٰ:
باب المندب بند ہونے سے سعودی عرب سے پاکستان کو تیل کی سپلائی محدود ہو جائے گی اور شارٹیج ہوگی۔
حقیقت اور جیوگرافک سچائی:
جغرافیائی طور پر سعودی عرب کی اہم ترین آئل پورٹس
(جیسے راس تنورہ) خلیج فارس کی جانب واقع ہیں۔
سعودی عرب سے پاکستان کو تیل لانے والے ٹینکرز خلیج فارس سے نکل کر براہِ راست بحیرہ عرب (Arabian Sea) کے ذریعے کراچی یا گوادر کی بندرگاہوں پر پہنچتے ہیں۔
پاکستان جانے والے آئل ٹینکرز باب المندب سے نہیں گزرتے۔
باب المندب کا راستہ یورپ اور مغربی ممالک کی تجارت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
باب المندب کی مکمل بندش سے پاکستان کو سعودی عرب سے تیل کی
“جسمانی سپلائی
” (Physical Supply)
بند یا محدود نہیں ہوگی۔
البتہ
عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کو مہنگے آئل امپورٹ کا مالی بحران ضرور پیش آ سکتا ہے۔
۳. حکومت کا چین سے 2000 الیکٹرک گاڑیاں منگوا کر رشتہ داروں میں بانٹنا؟
تحریر کا دعویٰ:
حکومت نے چین سے ایمرجنسی میں 2000 الیکٹرک گاڑیاں منگوائیں
جو کراچی پہنچ گئیں اور عزیز و اقارب میں تقسیم کی جائیں گی۔
حقائق کی جانچ
(Fact Check):
سائنسی اور معاشی منطق:
آئل بحران کے حل کے طور پر راتوں رات 2000 گاڑیاں منگوا کر تقسیم کرنا معاشی، قانونی اور عملی طور پر ناممکن ہے۔
کسی بھی ملک کا سرکاری خزانہ اس طرح گاڑیوں کی ذاتی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا۔
حکومتی پالیسی:
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو فروغ دینے کی پالیسی ضرور موجود ہے،
لیکن
اس کے تحت پرائیویٹ کمپنیوں کو امپورٹ اور مقامی مینوفیکچرنگ کی ترغیب دی جاتی ہے۔
یہ دعویٰ مکمل طور پر من گھڑت اور سوشل میڈیا کی افواہ ہے۔ سرکاری سطح پر ایسی کوئی ایمرجنسی امپورٹ ہوئی ہے
اور نہ ہی عزیز و اقارب میں گاڑیاں تقسیم کرنے کا کوئی قانون یا اسکیم موجود ہے
(Summary)
عالمی قیمتیں:
باب المندب یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے تیل کی عالمی قیمتیں اور شپنگ اخراجات بڑھیں گے،
جس کا بوجھ پاکستان پر “مہنگائی” کی صورت میں پڑے گا۔
سپلا ئی کی صورتحال:
پاکستان کے لیے سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے تیل کا راستہ ڈائریکٹ بحیرہ عرب سے ہے، لہذا باب المندب بند ہونے سے پاکستان میں تیل کی ‘جسمانی شارٹیج’ کا سائنسی امکان نہیں ہے۔
وائرل خبریں:
الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ اور ان کی رشتہ داروں میں تقسیم سے متعلق تمام باتیں بے بنیاد سوشل میڈیا پروپیگنڈا ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسی سنسنی خیز خبروں پر یقین کرنے سے پہلے جغرافیائی حقائق اور مصدقہ ذرائع کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔🔥