10

جدید ڈیری فارمنگ کی جانب ایک مثبت قدم: فارمرز آگاہی پروگرام کی اہمیت خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

جدید ڈیری فارمنگ کی جانب ایک مثبت قدم: فارمرز آگاہی پروگرام کی اہمیت

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت کے ساتھ ساتھ مویشی پالنا بھی معیشت کا اہم ستون ہے۔ لاکھوں خاندان دودھ کی پیداوار اور ڈیری فارمنگ سے وابستہ ہیں، لیکن جدید سائنسی معلومات اور تکنیکی رہنمائی کی کمی کے باعث اکثر فارمرز اپنی محنت کا مکمل صلہ حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے حالات میں نجی شعبے کی جانب سے کسانوں اور ڈیری فارمرز کی تربیت کے لیے آگاہی پروگراموں کا انعقاد نہایت خوش آئند اقدام ہے۔
رنگپور بگھور میں ڈیری لیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ فارمرز آگاہی پروگرام اسی سلسلے کی ایک قابلِ تحسین کاوش ہے، جس میں 70 سے زائد ڈیری فارمرز نے شرکت کی۔ اس پروگرام کا مقصد صرف مصنوعات کا تعارف کرانا نہیں تھا بلکہ فارمرز کو جدید ڈیری فارمنگ، جانوروں کی بہتر نگہداشت اور سائنسی بنیادوں پر دودھ کی پیداوار بڑھانے کے طریقوں سے آگاہ کرنا بھی تھا۔
پروگرام کے دوران محمد نعیم، ایریا سیلز مینیجر، اور ڈاکٹر محمد اعجاز، ریجنل سیلز مینیجر، نے ہیٹ اسٹریس مینجمنٹ، ڈرائی میٹر کی اہمیت اور اس کے درست حساب کے بارے میں جامع معلومات فراہم کیں۔ گرمی کی شدت کے باعث جانوروں کی صحت اور دودھ کی پیداوار متاثر ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے جدید طریقۂ کار سے آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح خوراک میں ڈرائی میٹر کا درست استعمال جانوروں کی صحت، دودھ کے معیار اور پیداوار میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
محمد نعیم نے بجا طور پر اس بات پر زور دیا کہ ڈیری لیک کا مقصد صرف معیاری فیڈ فروخت کرنا نہیں بلکہ ڈیری فارمرز کو ہر مرحلے پر فنی رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں صرف اچھا چارہ یا فیڈ ہی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ درست معلومات، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
پاکستان میں ڈیری سیکٹر بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس شعبے کو درپیش مسائل میں جانوروں کی ناقص خوراک، بیماریوں کی روک تھام میں کمزوریاں، جدید انتظامی طریقوں سے ناواقفیت اور مارکیٹنگ کے مسائل شامل ہیں۔ اگر سرکاری ادارے، نجی کمپنیاں اور تحقیقی مراکز مل کر اسی طرح تربیتی پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھیں تو نہ صرف دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ معیار بھی بہتر ہوگا، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
اس پروگرام میں مقامی میزبانوں ملک منصور صلاح الدین بگھور، سیلز پروموٹ آفیسر ملک نزیر احمد، ملک نعیم عباس بگھور اور ملک شعیب عطر بگھور کی خدمات بھی قابلِ ستائش ہیں، جنہوں نے فارمرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے علم اور تجربے کے تبادلے کا بہترین موقع فراہم کیا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ پروگرام کے اختتام پر فارمرز نے اس تربیتی نشست کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے کسان اور ڈیری فارمرز نئی معلومات حاصل کرنے اور جدید طریقوں کو اپنانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں، ضرورت صرف ایسے مواقع اور رہنمائی کی ہے۔
آج کے دور میں زرعی اور ڈیری شعبے کی ترقی صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ نجی شعبے، ماہرین، تعلیمی اداروں اور خود فارمرز کے باہمی تعاون سے ہی ایک مضبوط اور خوشحال ڈیری معیشت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اگر اس نوعیت کے آگاہی پروگرام ملک کے ہر ضلع اور تحصیل تک پہنچ جائیں تو پاکستان نہ صرف دودھ کی پیداوار میں خودکفیل ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ڈیری مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
بلاشبہ، علم، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستانی ڈیری فارمنگ کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار معاشی استحکام کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں