15

میرپورخاص (شاھدمیمن) جے ایس ٹی امیدواروں کا میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاج، کٹ آف

میرپورخاص (شاھدمیمن) جے ایس ٹی امیدواروں کا میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاج، کٹ آف مارکس 50 کرنے اور تقرریوں کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق جے ایس ٹی (جونیئر اسکول ٹیچر) کے امیدواروں نے میرپورخاص پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھرتیوں کے لیے مقرر کردہ کٹ آف مارکس 55 کے بجائے 50 کیے جائیں اور 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروں کو تقرری کے عمل میں شامل کیا جائے احتجاجی مظاہرے میں ہری رام، ذاکر لغاری، خدیجہ حسن، فروہ ارشد اور دیگر امیدواروں نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سندھ حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سید سردار شاہ اور دیگر متعلقہ حکام ایک ہی پالیسی اختیار کرتے ہوئے 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو تقرری کا موقع فراہم کریں ان کا کہنا تھا کہ ٹیچنگ لائسنس کے امتحان میں بھی پاسنگ مارکس 50 مقرر کیے جائیں اور ایسے تمام امیدواروں کو میرٹ لسٹ میں شامل کیا جائے مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں ہونے والے مختلف مسابقتی امتحانات، جن میں سی ایس ایس، پی سی ایس، وفاقی جامعات کے داخلہ امتحانات اور دیگر سرکاری ملازمتوں کے ٹیسٹ شامل ہیں ان میں پاسنگ یا کٹ آف مارکس نسبتاً کم رکھے جاتے ہیں جبکہ جے ایس ٹی امیدواروں کے لیے 55 نمبروں کی شرط عائد کرنا ناانصافی ہے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے مانیٹرنگ اسسٹنٹ کے ٹیسٹ میں بھی کٹ آف مارکس 50 مقرر کیے گئے تھے اس لیے جے ایس ٹی امیدواروں کے لیے بھی یہی معیار اپنایا جائے مظاہرین نے بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سید سردار شاہ، صوبائی وزیر اویس قادر شاہ، جمیل سومرو اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ امیدواروں کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جے ایس ٹی بھرتیوں کے لیے کٹ آف مارکس 55 کے بجائے 50 مقرر کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل امیدواروں کو روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں