ہرنولی گرلز ڈگری کالج کی فوری فعالیت وقت کی اہم ضرورت ہے: مسز نائلہ مشتاق احمد دھون ایڈووکیٹ
سابق جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ضلع میانوالی، مسز نائلہ مشتاق احمد دھون ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہرنولی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گزشتہ تین سال سے غیر فعال پڑا ہے، جس کے باعث علاقے کی ہزاروں طالبات اعلیٰ تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف طالبات کے بنیادی حقِ تعلیم کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقے کی تعلیمی ترقی میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے سب ڈویژنل بار ایسوسی ایشن پپلاں کی جانب سے منظور کی گئی متفقہ قرارداد اور وکلاء برادری کی اس مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب، محکمہ ہائر ایجوکیشن اور متعلقہ حکام فوری طور پر کالج کو فعال کریں، تدریسی و انتظامی عملہ تعینات کریں اور باقاعدہ کلاسوں کا آغاز یقینی بنائیں تاکہ طالبات مزید تعلیمی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔
مسز نائلہ مشتاق احمد دھون ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہرنولی اور گردونواح کے عوام، والدین، اساتذہ اور سماجی حلقے اس مسئلے پر یک زبان ہیں اور چاہتے ہیں کہ طالبات کو ان کے گھر کے قریب معیاری اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لہٰذا اس حق کی فراہمی میں مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام عوامی مفاد، آئینی ذمہ داری اور طالبات کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری عملی اقدامات کریں گے تاکہ ہرنولی گرلز ڈگری کالج جلد از جلد فعال ہو اور علاقہ تعلیمی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
28









