10

اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ساجد حسین طوری

اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ساجد حسین طوری

اوورسیز پاکستانیوں کے جائز قانونی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔سابق وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز

کرم(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے اوورسیز پاکستانیوں، بالخصوص سابق فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر مناسب رویہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان بھیج کر قومی معیشت کو سہارا دیتے ہیں، جن پر حکومت، وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک فخر کا اظہار کرتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی وطن واپس آتے ہیں تو انہیں ایئرپورٹس پر غیر ضروری پوچھ گچھ، ہراسانی، آف لوڈنگ، پاسپورٹ بلاک ہونے اور دیگر انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ اصلاح صورتحال ہے۔ساجد حسین طوری نے کہا کہ سابق فاٹا اور بلوچستان کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی، دہشت گردی اور جنگوں کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ افغانستان میں مختلف ادوار کی جنگوں، خصوصاً 2001 کے بعد ہونے والی علاقائی کشیدگی اور سرحدی حالات نے ان علاقوں کے عوام کی زندگیوں، روزگار اور مستقبل کو شدید متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت، بالخصوص وزارتِ داخلہ، کو جامع اور واضح پالیسی مرتب کرنی چاہیے تاکہ وطن واپس آنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو بلاجواز ہراسانی، آف لوڈنگ، پاسپورٹ بلاک ہونے اور دیگر غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کے جائز قانونی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔سابق وفاقی وزیر نے زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ معصوم شہری غیر قانونی اور خطرناک راستوں کے ذریعے بیرونِ ملک جانے پر مجبور نہ ہوں۔ ساتھ ہی ملک میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آئے اور انہیں غیر محفوظ ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک طرف اوورسیز پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جائیں، انہیں سفری مشکلات کا سامنا ہو اور دوسری طرف ملک میں بے روزگاری بھی ہو تو یہ صورتحال ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے شہریوں کے لیے مؤثر، منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر قابلِ عمل حل نکالے، ان کی مشکلات آسان کرے اور انہیں قومی ترقی میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرنے کا موقع فراہم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں