*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: پاک و شفاف صحافت ناگزیر*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
جب سے سوشل میڈیا نے قدم رکھا ھے کم و بیش ایسے لوگوں کو خودساختہ صحافی کہلواتے سنا بہت گیا ھے اور سوشل میڈیا میں انہیں دیکھا بھی گیا ھے، ان میں نام نہاد ایسے صحافیوں کے منفی اشو سامنے آتے رہے ہیں جس سے عام عوام کے ذہنوں، سوچوں خیالوں میں صحافی اور صحافت کا رنگ منفی نظر آتا ھے لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے کیونکہ صحافت ایک مقدس و معتبر پیشہ اور منصب ھے جس میں حقائق سچ ایمانداری و دیانتداری کا جز ہی بنیاد ہوتی ھے یہی سبب ھے کہ رجسٹرڈ صحافی آرگنائزیشن اور رجسٹرڈ پریس کلب نہ صرف ریاست و حکومت کی نگاہ میں معتبر رہتے ہیں بلکہ عوام میں ایک خاص تقدس کا مقام بھی رکھتے ہیں۔ اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ صحافی نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے شعبہ کا تقدس کو بام عروج پر پہنچانے کیلئے اپنی جانوں کا بھی نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ رجسٹرڈ صحافی نہ جھکتے ہیں نہ بکتے ہیں وہ شفافیت اور عدل و انصاف پر یقین رکھتے ہیں۔ عصر حاضر میں صحافتی میدان میں گھس بیٹھیوں کی جعل سازی اور مکروہ فریب کو روکنے کیلئے لازماً قانون سازی کیساتھ ساتھ لائحہ عمل لانا ناگزیر بن چکا ھے۔ میں کراچی سے شروع کرتا ھوں کہ کراچی میں جرنلسٹ کی دو بڑی رجسٹرڈ یونین ہیں جن میں کراچی یونین آف جرنلسٹ برنا دوسری کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور انہیں یونین کی شفارش سے کراچی پریس کلب کی ممبر شپ بھی حاصل ہوتی ہے جبکہ کراچی پریس کلب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ معروف اور تاریخی حیثیت کا مالک بھی ھے۔ کراچی عروس البد شہر ایک بہت وسیع ہوگیا ھے اسی نسبت کئی علاقوں میں چند ایک گھس بیٹھیوں نے نت نئے نام اور رنگ سے اس شعبہ سے منفی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سندھ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ، سندھ پولیس اور حکومت سندھ صحافیوں کی عزت و احترام اور مقام کو ترجیح دیتے ہوئے ان جعل سازوں پر سخت قدم نہیں اٹھاتے کہ کہیں حقیقی صحافی زد میں نہ آجائے۔ آج کے جدید کمپوٹرائز دور میں حقیقی اور جعلی میں فرق کرنا کوئی مشکل نہیں رھا۔ ہر رجسٹرڈ یونین اور کلب کے ممبران کی فہرستوں پر مبنی ڈیٹا ہر تھانے، اور ریاستے اداروں کو فراہم کرنا ناگزیر ہوچکا ھے تاکہ کوئی بھی اگر جعل ساز فریبی صحافی بن کر لوٹنے بلیک میلنگ کرنا چاہے تو اس کی جانچ پڑتال ہاتھوں ہاتھ ہوسکے اور صحافت ان جعل سازوں کی جعل سازی اور بلیک میلنگ سے محفوظ رہ سکے، اس کیلئے حکومت اور رجسٹرڈ صحافتی یونین و کلب ایک باہمی مشترکہ اپلیکیشن تیار کریں جس میں ہر رجسٹرڈ صحافی کا مکمل ڈیٹا موجود ھو۔ نام ، ولدیت ، ادارہ ، بیٹ ، عہدہ ، سیکشن ، کیفیت ، شناختی کارڈ نمبر ، ایڈریس ، موبائل نمبر اور ای میل بھی شامل ھوں۔ ساتھ ساتھ ہر ڈیٹا کیساتھ فنگر و آئی پرنٹ اور اسکینگ بھی شامل کی جائے تاکہ اس اپلیکیشن سے صرف صحافی واضع ہوجائیں گے اور انکی تعداد بھی۔ اس طریق سے ایک جانب صحافت اپنا کھویا مقام حاصل کرسکے گی تو دوسری جانب صحافت کو بلیک میلنگ اور جعل سازی کے طور پر کوئی استعمال نہیں کرسکے گا یہ کام کوئی مشکل نہیں مگر ارادہ اور عمل پختہ ہونا ضروری ھے۔۔۔۔۔!!