معاون آلات معذوری نہیں، صلاحیتوں کے دروازے کھولتے ہیں
تحریر: عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز
ہمارے معاشرے میں اکثر معاون آلات (Assistive Devices) کو معذوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ آلات بچوں اور بڑوں کی صلاحیتوں کو محدود نہیں کرتے بلکہ انہیں خودمختاری، وقار، اعتماد اور نئی امید فراہم کرتے ہیں۔
وہیل چیئر ہمت ہارنے کی علامت نہیں بلکہ آزادی کا ذریعہ ہے، جو ایک بچے کو اسکول جانے، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور بااعتماد انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی طرح واکر کمزوری کی نشانی نہیں بلکہ ایسا سہارا ہے جو بچے کو ایک ایک قدم چلتے ہوئے دنیا کو دریافت کرنے اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اسٹینڈنگ فریم صرف بچے کو کھڑا ہونے میں مدد نہیں دیتا بلکہ جسمانی ساخت، ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی، بہتر صحت اور روزمرہ زندگی میں فعال شرکت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اسی طرح مواصلاتی آلات (Communication Devices) ایسے بچوں کو آواز دیتے ہیں جو بولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے خیالات، احساسات، ضروریات اور خواب دوسروں تک پہنچا سکیں۔
ہر معاون آلے کا مقصد ایک ہی ہے: معذور افراد کی خودمختاری، اعتماد، سماجی شمولیت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا۔ یہ آلات معذوری کی علامت نہیں بلکہ صلاحیت، مواقع، شمولیت اور بااختیار بنانے کی علامت ہیں۔
حکومتِ سندھ کے محکمہ بااختیاری افرادِ باہم معذوری (DEPD) نے معاون آلات کی فراہمی کے لیے 800 ملین روپے مختص کرکے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ یہ فنڈز صوبے بھر کی 105 غیر منافع بخش تنظیموں میں تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے ان معذور افراد تک معاون آلات پہنچائے جا سکیں جو اب تک ان سہولیات سے محروم تھے۔ یہ اقدام سندھ میں معذور افراد کی شمولیت اور بااختیاری کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔
اس پروگرام نے ہزاروں بچوں اور بالغ معذور افراد کے چہروں پر خوشی کی مسکراہٹ بکھیر دی ہے اور ان کے خاندانوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ سندھ معذور افراد کو باوقار، خودمختار اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
محکمہ DEPD کے شراکت دار اداروں کی حیثیت سے نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF) اور پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن (PDSA) اس عظیم اقدام میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ٹرائی موٹر سائیکلز، ٹرائی سائیکلز، الیکٹرک وہیل چیئرز، مینوئل وہیل چیئرز، سی پی چیئرز، بیساکھیاں، سفید چھڑیاں، واکرز، سماعتی آلات اور دیگر معاون آلات مستحق افراد میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ معاون آلات معذور افراد کو تعلیم، روزگار، صحت، بحالی کی خدمات اور معاشرتی زندگی میں بھرپور شرکت کے قابل بنا رہے ہیں۔
تاہم صرف معاون آلات کی فراہمی کافی نہیں۔ ان کے ساتھ قابلِ رسائی عمارتیں، جامع تعلیم، مؤثر پالیسیاں، معیاری بحالی کی خدمات اور ایسا معاشرہ بھی ضروری ہے جو معذور افراد کے حقوق، صلاحیتوں اور وقار کو تسلیم کرے۔
ہمیں معاون ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ ہر وہ بچہ اور بالغ فرد جسے ان آلات کی ضرورت ہے، بروقت اور بلاامتیاز یہ سہولت حاصل کر سکے۔ حکومت، سول سوسائٹی، ترقیاتی شراکت دار، نجی شعبہ اور مقامی اداروں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاون آلات ہر ضرورت مند تک پہنچیں۔
ہر بچے کو چلنے، سیکھنے، کھیلنے، بات چیت کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ ہر بالغ معذور فرد کو بھی روزگار، سفر، سماجی شرکت اور خودمختار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔
آئیے اپنا نقطۂ نظر بدلیں۔ معاون آلات معذوری کی نہیں بلکہ صلاحیت، خودمختاری، وقار، مساوی مواقع اور ایک جامع معاشرے کی علامت ہیں۔