لاہور کی تاریخ کا دل دہلا دینے والا اور سوشل میڈیا پر آگ کی طرح وائرل ہونے والا مشہور ڈیلیوری بواۓ کے اندوہناک ق/تل کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی
ڈلیوری بوائے رئیس اور شادی شدہ خاتون آمنہ کے درمیان مبینہ معاشقہ بالآخر ایک ہولناک انجام پر ختم ہوا۔ پولیس کے مطابق جب آمنہ کے شوہر فرحان کو دونوں کے ناجائز تعلقات کا علم ہوا تو اس نے انتقام کی خوفناک منصوبہ بندی شروع کردی۔
ذرائع کے مطابق ملزم فرحان نے خود کو آمنہ ظاہر کرکے ڈلیوری بوائے رئیس کو گھر بلایا، جہاں پہلے سے تیار منصوبے کے تحت اسے بے دردی سے ق/تل کردیا گیا۔ ق/تل کے بعد بھی ملزم کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا، تو اپنی بیوی آمنہ کے ساتھ ملکر مقتول رئیس کی لا/ش گاڑی میں ڈال کر مانگا منڈی کے علاقہ میں لے جا کر اس پر پٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی تاکہ شواہد مکمل طور پر مٹا دیے جائیں۔
واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم میاں بیوی کو ان کے گھر سے گرفتار کیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ دورانِ تفتیش آمنہ نے چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے مقتول رئیس کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث تھی۔
اس سنسنی خیز کیس میں مدعی مقدمہ کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ عدنان سلیم گجر نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کرائم رپورٹر اے ڈی ملک کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کے موبائل فونز سے حیران کن شواہد حاصل کیے گئے، جنہیں فرانزک کے لیے بھجوایا گیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار عدالت عظمیٰ سے ملزمان کی آڈیو فرانزک کے احکامات بھی جاری کروائے گئے تاکہ کوئی بھی ثبوت ضائع نہ ہوسکے اور قا/تل قانون کے شکنجے سے نہ بچ پائیں۔
ایڈووکیٹ عدنان سلیم گجر کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان کے خلاف مضبوط اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جاچکے ہیں، جبکہ قا/تل میاں بیوی کی متعدد ضمانتیں بھی عدالت سے خارج کروائی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق بہت جلد عدالت سے ایک تاریخی فیصلہ متوقع ہے جس میں ملزمان کو سزائے مو/ت سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ معاشرے کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے کہ ناجائز تعلقات، بے وفائی اور انتقام کس طرح انسان کو درندگی کی آخری حد تک پہنچا دیتے ہیں۔