6

سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) ریڈیو پاکستان سرگودھا کے ایف ایم 101 کے معروف پروگرام “شاہین

سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) ریڈیو پاکستان سرگودھا کے ایف ایم 101 کے معروف پروگرام “شاہین سرگودھا” میں زرعی تعلیم، جدید تحقیق، فوڈ سیکیورٹی اور پاکستان میں زراعت کے مستقبل کے حوالے سے ایک خصوصی پروگرام نشر کیا گیا۔ پروگرام میں پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا، پرنسپل کالج آف ایگریکلچر، یونیورسٹی آف سرگودھا نے بطور مہمان شرکت کی۔
گفتگو کے دوران پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے کالج آف ایگریکلچر کے قیام، مقاصد، تعلیمی سرگرمیوں اور زرعی تحقیق میں اس کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کالج آف ایگریکلچر جدید زرعی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالج میں صرف بی ایس پروگرامز ہی نہیں بلکہ ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے پروگرامز بھی کامیابی سے جاری ہیں، جن کے ذریعے اعلیٰ معیار کی تحقیق کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یونیورسٹی آف سرگودھا میں ملکی طلبہ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو ادارے کے علمی اور تحقیقی معیار کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک طلبہ کے لیے بھی یونیورسٹی کے دروازے کھلے ہیں اور وہ یہاں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
پروگرام میں کالج آف ایگریکلچر میں آفر کیے جانے والے مختلف ڈگری پروگرامز، نوجوانوں کے لیے کیریئر کے مواقع، زرعی کاروبار (ایگری بزنس)، فوڈ سیکیورٹی اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پروفیسر ڈاکٹر اعجاز رسول نورکا نے پاکستان کی زراعت کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زرعی زمینوں کا تحفظ، بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا اس وقت زرعی شعبے کے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق پر مبنی زراعت ہی پائیدار ترقی اور غذائی تحفظ کی ضامن بن سکتی ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی آف سرگودھا اور کالج آف ایگریکلچر کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ جدید تحقیق، سائنسی کاشتکاری، زرعی جدت اور کسان دوست منصوبوں کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کالج کے مختلف شعبہ جات، تحقیقی منصوبوں اور آؤٹ ریچ پروگرامز کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد تحقیق کے نتائج کو براہِ راست کسانوں تک پہنچانا ہے تاکہ وہ جدید زرعی معلومات اور سائنسی طریقہ ہائے کاشت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسی مقصد کے تحت مختلف آؤٹ ریچ پروگرامز اور تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
گفتگو کے دوران سرگودھا کے عالمی شہرت یافتہ سٹرس سیکٹر کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی آف سرگودھا میں قائم سینٹر آف ایکسی لینس فار سٹرس، سرگودھا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے کینو کی پیداوار، معیار، بیماریوں کی تشخیص، برآمدات اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے شعبوں میں اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ مرکز سٹرس انڈسٹری کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے اور کاشتکاروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
پروگرام کے دوران سامعین کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جوابات بھی دیے گئے اور زرعی تعلیم و تحقیق سے متعلق مفید معلومات فراہم کی گئیں۔
پروگرام کے میزبان سبطین بلوچ تھے۔ ذیشان افضل نے اسٹوڈیو انجینئر کے فرائض انجام دیے جبکہ نعمان شفیق نے فیس بک معاونت فراہم کی۔ پروگرام کے پروڈیوسر محمد جمشید قادری تھے جبکہ فریحہ کنول نے بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر فرائض سرانجام دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں