9

نامۂ اعمال پر فخر یا پشیمانی؟ انتخاب ہمارا ہے! جمعہ 12 جون 2026 تحقیق و تحریر: انجینئر نذیر ملک سرگودھا

نامۂ اعمال پر فخر یا پشیمانی؟ انتخاب ہمارا ہے!

جمعہ 12 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا

اللہ رب العزت نے ہمیں اس خوبصورت، رنگین اور بے پناہ نعمتوں سے سجی کائنات میں پیدا فرمایا۔ پینے کو صاف پانی، سانس لینے کو ہوا، زمین کی وسعتیں اور آسمان کی رفعتیں یہ سب اس عظیم رب کی وہ عنایات ہیں جن کا ہم شمار بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم اس رنگین دنیا کی ظاہری چمک دمک میں ایسے کھوئے کہ خود کو پالنے والے رب ہی کو بھول گئے۔
ہم نے اس کی بے پناہ عنایتوں کے بدلے شکر گزاری کا راستہ چننے کے بجائے، اپنی جھولیوں کو گناہوں، نافرمانیوں اور غفلت کے ڈھیر سے بھر لیا ہے۔ ہم ان کاموں میں مگن ہیں جن سے اس ربِ کائنات نے روکا تھا، اور ان احکامات سے دور ہیں جن کو بجا لانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ قصور وار کوئی اور نہیں، ہم خود ہیں۔

بندگی کا اصل معیار شکر گزاری اور سرخروئی:

یقیناً اللہ تعالی غفور و رحیم ہے، وہ عاجزی اور ندامت کو پسند فرماتا ہے، لیکن بندگی کا اصل مقصود اور رب کی منشا یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس کے شکر گزار اور فرماں بردار بندے بن کر رہیں۔ زندگی گزارنے کا ڈھنگ ایسا ہونا چاہیے کہ جب ہم کل روزِ محشر اپنے رب کے حضور پیش ہوں، تو ہمارے چہروں پر پشیمانی اور خوف کے بجائے مومنانہ وقار اور خوشی ہو۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے ایسے ہی خوش نصیب بندوں کا نقشہ کھینچا ہے جو قیامت کے دن سرخرو ہوں گے:
“فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيَهْ” “پھر جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ (خوشی سے چلاتا ہوا) کہے گا: آؤ! میرا نامۂ اعمال پڑھو!” (الحاقہ: 19)

یہ وہ مقامِ فخر ہے جہاں انسان اپنے رب کے سامنے اور پوری کائنات کے سامنے خوشی سے اپنا نامۂ اعمال دکھاتا پھرے گا۔ لیکن اس مقام کو پانے کے لیے ہمیں آج اپنی زندگیوں کا رخ تبدیل کرنا ہوگا۔

ہم شکر گزار بندے کیسے بنیں؟ (اصلاحی اقدامات)

معاشرے کے ہر فرد کو اگر روزِ محشر کی رسوائی سے بچنا ہے اور الٰہی منشا کے مطابق جینا ہے، تو مندرجہ ذیل پہلوؤں پر فوری توجہ دینی ہوگی:

نعمتوں کا اعتراف اور شعوری شکر گزاری:

شکر صرف زبان سے “الحمدللہ” کہہ دینے کا نام نہیں ہے۔ حقیقی شکر یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں، وقت، مال اور زندگی کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے، نہ کہ اس کی نافرمانی میں۔

احکاماتِ الٰہی کی پاسداری:

نماز کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی، اور رزقِ حلال کا حصول وہ بنیادی ستون ہیں جو ہمارے نامۂ اعمال کو خوبصورت بناتے ہیں۔ جب ہم شعوری طور پر گناہوں سے دور رہنے کی کوشش کریں گے، تو ہماری جھولی گناہوں کے بجائے نیکیوں سے بھرے گی۔

خوفِ خدا اور آخرت کی فکر:
معاشرے میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ آخرت کی جوابدہی کا بھول جانا ہے۔ جب ہر انسان یہ سوچے گا کہ اس کا ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس نے اپنے رب کا سامنا کرنا ہے، تو ظلم، جھوٹ اور بدعنوانی کا خاتمہ خود بخود ہو جائے گا۔

مثالی کردار کی تعمیر:
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں۔ دنیا کی شرطوں اور مطلب پرستی کے برعکس، ایک سچے مومن کا رویہ بے غرض خدمت اور مخلصانہ محبت کا ہونا چاہیے۔

آخری فکر:
خالی ہاتھ، بے بس اور نادم ہو کر رب کے حضور جانا یقیناً اس کی رحمت کے سائے میں لے جاتا ہے، لیکن ایک غافل معاشرے کے لیے مستقل طور پر اسی حال پر قناعت کر لینا سستی اور کمزوری ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم آج ہی غفلت کی نیند سے بیدار ہوں، اپنے نامۂ اعمال کی فکر کریں، اور اس رنگین دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کے سچے فرماں بردار بنیں۔

آئیں عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالیں گے کہ ہمارا رب بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی اس کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔

الدعاء
یا اللہ تعالی ہمیں تیرے سبھی احکامات، پر نبی کریم کے طریقہ کے مطابق عمل کرنے والا بنا دے۔

آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں