7

شجرکاری کی اہمیت تحریر: اللہ نواز خان

شجرکاری کی اہمیت
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
موسمیاتی تبدیلیاں،ماحولیاتی آلودگی،قدرتی وسائل کی کمی اور بڑھتا درجہ حرارت جیسے مسائل پوری دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔پاکستان بھی ان مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔پاکستان میں شدید گرمی،بےموسمی بارشیں،سیلاب،خشک سالی جیسے سنگین مسائل معیشت کے علاوہ انسانی صحت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان مسائل سے نپٹنا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔شجر کاری سے مسائل کی سنگینی کو کم کیا جا سکتا ہے۔درخت قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔درخت کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب اورآکسیجن مہیا کرتے ہیں نیز ماحول کو بھی صاف رکھتے ہیں۔ان سے فضا بھی ٹھنڈی رہتی ہے،جس کی گرمیوں میں شدید ضرورت ہوتی ہے۔درخت سایہ بھی فراہم کرتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔پاکستان میں درخت اگانا انتہائی ضروری ہیں۔مستقبل میں موسمیاتی تبدیلوں کے خطرات زیادہ سنگین رخ اختیار کر لیں گے،اگر اس وقت شجرکاری پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
پاکستان میں جنگلات کم ہیں اور جو موجود ہیں ان کو بھی کاٹا جا رہا ہے،حالانکہ یہ عمل انتہائی نقصان دہ ہے۔دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی وجہ سے درخت کاٹے جاتے ہیں۔آبادی میں اضافہ اورشہری پھیلاؤ کے علاوہ منافع کے لیے بھی درختوں کی کٹائی کی جاتی ہے۔آبادی میں اضافہ یا شہری پھیلاؤ کی وجہ سے زمین کی ضرورت ہوتی ہے،جہاں گھر تعمیر کیے جا سکیں۔زمین پر موجود درخت کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ گھروں کی تعمیر ممکن ہو سکے۔غیر قانونی طور پر بھی لکڑی کاٹی جاتی ہے تاکہ منافع کمایا جا سکے۔اگر انتہائی ضروری ہو تو درخت کاٹے جائیں لیکن معمولی ضرورت یا منافع کے لیے درخت کاٹنا حکومتی سطح پر ممنوع قرار دیا جائے۔شجر کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے،تاکہ زیادہ سے زیادہ درخت اگانا ایک مشن بن جائے۔دیہاتی گھروں کے علاوہ شہری گھروں میں بھی درخت اگانے کی ضرورت ہے۔کسی بھی آبادی میں زیادہ درخت ماحول کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔
اسلام نے بھی شجرکاری کی تلقین کی ہے اور بڑے بڑے فائدے بتائے ہیں۔ایک حدیث کے مطابق”جس نے کوئی درخت اگایا اور اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کی یہاں تک کہ وہ بڑا ہوا اور اس میں پھل آیا،تو اللہ تعالی اس پھل کے بدلے صدقہ لکھ دیتا ہے”(مسند احمد) کتنا بڑا انعام ہے کہ خود ہی انسان فائدہ اٹھا رہا ہے اور بدلے میں اللہ تعالی اس کو اجر بھی دے رہے ہیں۔درختوں کی اہمیت ایک اور حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہےکہ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اگر وہ اس بات پر قادر ہو کہ قیامت ہونے سے پہلے اسے زمین میں گاڑ دے،تو ضرور گاڑ دے (پودا لگائے)”(مسند احمد)
درختوں کے بہت سے فوائد ہیں۔سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی اکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ماحول کو بھی صاف رکھتے ہیں،جو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔درختوں سے فرنیچر وغیرہ بھی بنایا جاتا ہے۔فرنیچر کے علاوہ دیگر ضروریات کے لیے بھی درختوں کی لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے۔جانوروں کے لیے ٹہنیوں کی صورت میں چارہ بھی مہیا کرتے ہیں۔ضرورت کے مطابق درخت کاٹنا درست ہے لیکن غیر ضروری طور پر درخت نہ کاٹے جائیں۔پھلدار درختوں سے کھانے کے لیے پھل حاصل ہوتے ہیں اور ان کو فروخت کر کے منافع بھی کمایا جا سکتا۔درختوں کی لکڑی سےدروازے،کھڑکیاں،کرسیاں اور دیگر فرنیچر تیار ہوتا ہے۔بعض درختوں کے اجزاء ادویات میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔جگہ کی کمی کی وجہ سے درخت اگانا ممکن نہ ہوں تو پھولدار پودے یا سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔پلاسٹک یا مٹی کی گملوں میں اسانی سے گلاب،چنبیلی یا دیگر پھولوں کے پودے اگا کر ماحول کو خوشبودار اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔اسی طرح سبزیاں بھی کاشت کی جائیں،ان کو بطور خوراک استعمال کر کے رقم بچائی جا سکتی ہے۔
شجرکاری کو ایک ضروری مہم میں تبدیل کیا جائے۔شہریوں کو بیج یا پودے فری مہیا کیے جائیں۔بعض پودے سستے ہوتے ہیں اور بعض تو بالکل مفت دستیاب ہو جاتے ہیں۔مفت دستیاب ہونے والے پودے تو لازمی طور پر زیادہ سے زیادہ اگائے جائیں اور معمولی سی رقم کے عوض حاصل ہونے والے پودے بھی اگائے جائیں۔دیگر غیر ضروری اشیاء خرید کر رقم ضائع کر دی جاتی ہے لیکن پودوں پر رقم خرچ کرنا گوارا نہیں کیا جاتاجو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔لہذا ضروری ہے کہ درخت یا پودوں کی قیمت کو نہ دیکھا جائے بلکہ ان کی افادیت کو محسوس کرنا ضروری ہے۔کسی بھی گھر میں اگر ایک دو پھولوں کے پودے ہوں تو پورے گھر کا ماحول خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔کم از کم اس جگہ پر جا کر خوشی کا احساس ہوتا ہے جہاں پھولدار پودے اگے ہوئےہوں۔ہر فرد یہ عہد کر لے کہ میں زیادہ سے زیادہ درخت اگاؤں گا۔ایک کروڑ افراد بھی اگر یہ تہیہ کر لیں کہ ہم نے درخت اگانے ہیں تو کچھ عرصے کے بعد وسیع پیمانے پر درخت نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔زیادہ درخت موجود ہوں تو ضرورت کے مطابق درخت کاٹ لینا نقصان دہ ثابت نہیں ہوگا۔بہرحال ہر ایک ذمہ داری سمجھے کہ میں نے شجرکاری میں حصہ لینا ہے۔کم از کم دوسروں کو تلقین تو کی جائے تاکہ دوسرے شجر کاری کر سکیں۔جنگلات میں بھی اضافہ کیا جائے اور زرعی رقبہ جات میں بھی درخت اگائے جائیں۔درخت زمین کےکٹاؤ کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں اورزیر زمین پانی کے لیول کو بھی بہتر کرتے ہیں۔پرندے بھی درختوں پر بیٹھتے ہیں جس سے ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔ڈپریشن یا تناؤ کا مریض درختوں پر بیٹھے پرندوں کی آوازیں سن کر بھی صحت مند ہو سکتا ہے۔پرندوں کی اوازیں نہ بھی سنائی دیں تو درخت یا پھول انسانی ذہن کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔نجی طور پر باغبانی کر کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے علاوہ صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں