*حقوق العباد کی اہمیت اور آج کا بے فکر معاشرہ*
جمعرات 11 جون 2026
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
السلام علیکم:
آج ہم ایک ایسے پرفتن دور سے گزر رہے ہیں جہاں گناہ اپنی شکل بدل چکے ہیں۔ جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، اور دوسروں کا حق مارنا اب عیب نہیں، بلکہ ہوشیاری اور چالاکی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ انسان بھول گیا ہے کہ وہ جس ذات سے معاملہ کر رہا ہے، وہ دلوں کے بھید بھی جانتی ہے۔ ہمارا دعویٰ تو ایمان باللہ (اللہ پر ایمان) اور ایمان بالآخرت (آخرت پر ایمان) کا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہمیں گناہ سے روکنے میں ناکام ہے۔ اگر آخرت کی عدالت کا خوف دل میں پختہ ہو، تو کوئی انسان کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
معاشرے کے گہرے مشاہدے سے یہ حقیقت صاف نظر آتی ہے کہ قیامت کے دن جہنم کا ایندھن بننے والے اکثر وہ لوگ ہوں گے جو حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کے معاملے میں مجرم ٹہریں گے۔
۱- قرآنِ مجید کی روشنی میں حقوق العباد:
اللہ رب العزت نے قرآنِ پاک میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ بندوں کے حق مارنا اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنا سخت ترین گناہ ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد ہے:
“اور ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو.(سورہ البقرہ، آیت: ۱۸۸)
اسی طرح، جو لوگ زبان سے یا طاقت کے بل پر دوسروں کو نیچا دکھاتے ہیں اور دھوکے بازی کرتے ہیں، ان کے لیے سورہ الہمزہ میں سخت وعید (انتباہ) ہے:
“تباہی ہے ہر ایسے شخص کے لیے جو پیٹھ پیچھے عیب نکالنے والا اور منہ پر طعنے دینے والا (یا نیچا دکھانے والا) ہو(سورہ الہمزہ، آیت: ۱)
اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، وہ اپنے حقوق (جیسے نماز، روزہ میں کوتاہی) تو اپنی رحمت سے معاف کر سکتا ہے، لیکن جب تک صاحبِ حق (جس کا حق مارا گیا) معاف نہیں کرے گا، اللہ بھی اسے معاف نہیں فرمائے گا۔
۲.احادیثِ مبارکہ: معاشرے کا اصلی مفلس کون؟
نبی کریم ﷺ کی مفلس (دیوالیہ) والی حدیث آج کے دور پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: “کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟” صحابہ نے عرض کیا: “ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔” آپ ﷺ نے فرمایا:
“میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکوٰۃ (جیسے نیک اعمال) لے کر آئے گا۔ لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیوں میں سے ان سب (حقداروں) کو ان کا حصہ دے دیا جائے گا۔ اگر اس کی نیکیاں حقداروں کے حق پورے ہونے سے پہلے ختم ہو گئیں، تو ان (مظلوموں) کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔” (صحیح مسلم: ۶۵۷۹)
یہ حدیث جھنجھوڑ دینے والی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ صرف عبادت گزار ہونا کافی نہیں، اگر اخلاق اور معاملات درست نہیں ہیں تو ساری عبادت مٹی میں مل جائے گی۔
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کے نقصان) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری)
۳.آثارِ صحابہ: حقوق العباد پر اسلاف کا طرزِ عمل
صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ وہ کسی کا معمولی سا حق مارنے سے بھی کانپتے تھے۔
حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کا خوف:
امیر المؤمنین حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اکثر فرمایا کرتے تھے: *”اگر دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا، تو مجھے ڈر ہے کہ عمر سے آخرت میں اس کی بھی پوچھ گچھ ہوگی۔” جب ایک خلیفہ جانوروں کے حقوق کے لیے اتنا فکرمند تھا، تو انسانوں کا حق مارنے والوں کا کیا حشر ہوگا؟
حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کا قول:
آپ نے فرمایا: *”قیامت کے دن ایک بندے کو لایا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اس کا حساب کرو۔ اگر اس کے ذمے کسی کا حق ہوگا تو کہا جائے گا کہ اس کا حق ادا کرو۔ وہ کہے گا: ‘اے میرے رب! دنیا تو ختم ہو گئی، اب میں کہاں سے ادا کروں؟ تب فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کی نیکیاں لے کر حقدار کو دے دو۔”
حاصلِ کلام: معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ
باتوں سے دھوکہ دینا، لاٹھی، پسٹل یا بندوق کے زور پر کسی کو نیچا دکھانا یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا ایمان بالآخرت صرف زبان تک محدود ہے، دل میں نہیں اترا۔ اگر ہمیں جہنم کی رسوائی سے بچنا ہے، تو ہمیں اپنے معاملات صاف کرنے ہوں گے۔
امر بالمعروف (نیکی کا حکم) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنا) ہم سب پر فرض ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد لوگوں کو جگانا ہوگا کہ:
1. توبہ کریں: اگر کسی کا حق مارا ہے، تو زندگی میں ہی اس سے معافی مانگیں یا اس کا حق لوٹائیں۔
2 .*ایمان کو عملی بنائیں:
یہ یاد رکھیں کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے، اس سے کوئی چالاکی چھپی نہیں رہ سکتی۔
الدعاء
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو اس اخلاقی گراوٹ سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333