میرپورخاص (رپورٹ شاھدمیمن) آم کے بیوپاریوں نے سر پکڑ لیے،میرپورخاص کی سبزی و فروٹ منڈی میں آم کے سیزن کے دوران کاروباری سرگرمیاں شدید بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔ آموں کی بھرپور پیداوار اور منڈی میں بڑی مقدار میں آمد کے باوجود ٹھیکیدار، تاجر اور زمیندار مالی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ کاروبار میں مسلسل خسارے کے باعث تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، ٹھیکدار اور باغات مالکان کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا تفصیلات کے مطابق پڑوسی ممالک کے بارڈر بند ہونے کے سبب جہاں دیگر اشیاء کی امپورٹ ایکسپورٹ متاثر ہو گئی ہے وہی سندھ اور میرپورخاص کی پہچان آم کی ایکسپورٹ نہ ہونے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب آم کے بیوپاریوں کو کروڑوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے منڈی ذرائع کے مطابق آم کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والی پیٹی (بردانہ)190 روپے فی پیٹی کے حساب سے فراہم کی جا رہی ہے تاجروں کا الزام ہے کہ منڈی انتظامیہ کی جانب سے بردانے کی فراہمی میں بعض مخصوص افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کے باعث دیگر کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا ہے
دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے آم کے کاروبار کو مزید متاثر کیا ہے تاجروں کے مطابق ایک پیٹی کی ترسیل پر تقریباً 280 روپے خرچ آ رہا ہے جبکہ انہوں نے آم زمینداروں سے پہلے ہی 450 روپے فی پیٹی کے حساب سے خرید رکھے ہیں اس طرح ایک پیٹی پر مجموعی لاگت تقریباً 8 سے 9 سو روپے تک پہنچ جاتی ہے جبکہ منڈی میں آم کی فروخت 600 سے 700 روپے فی پیٹی کے درمیان ہو رہی ہے اس کے علاوہ لیبر، لوڈنگ، ان لوڈنگ اور دیگر انتظامی اخراجات بھی الگ سے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں
معروف ٹھیکیداروں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کے باعث انہیں ایک ٹرک پر تقریباً 5 سے 6 لاکھ روپے تک نقصان برداشت کرنا پڑا ان کا کہنا تھا کہ آم کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور اخراجات میں اضافے نے کاروبار کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے
تاجروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی بلند قیمتیں، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور آم کی ایکسپورٹ میں تعطل اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں ان کے مطابق میرپورخاص کی عالمی شہرت یافتہ سوغات آم مناسب خریدار نہ ملنے کے باعث انتہائی کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے جس سے پورا کاروباری سلسلہ متاثر ہو رہا ہے تاجروں، ٹھیکیداروں اور زمینداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آم کے شعبے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، ایکسپورٹ کے مواقع بڑھائے جائیں اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ اس اہم زرعی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے
کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف آم کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد متاثر ہوں گے بلکہ میرپورخاص کی معیشت اور آم کی صنعت کو بھی طویل المدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے دوسری جانب میرپورخاص کی فروٹ منڈی کے علاؤہ عام بازاروں گلی محلوں میں ٹھیلوں پر سندھڑی آم صرف 100 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے ہر جگہ آم ہی آم نظر آتا ہے اس وقت شہر میں سب سے سستا فروٹ آم ہے آم سستا ملنے سے غریب امیر سب خوش نظر آتے ہیں۔
نورپورتھل (راجہ نورالہی عاطف سے) راجہ محمد وقار رشتہء ازدواج سے منسلک ہوگئے ۔ ان کی شادی خانہ آبادی کی تقریب نورپورتھل میں ان کی رہائش گاہ پر
لاہور (راجہ نورالہی عاطف سے) پی پی 83 خوشاب سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی سردار ظفر خان بلوچ نے حلف اٹھا لیا
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے)وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر محرم الحرام سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
چن (راجہ نورالہی عاطف سے) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مواصلات و ایم این اے انجینئر ملک گل اصغر خان بگھور کی ہدایت پر موضع
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک * *عنوان: دین کی سمجھ ہر مسلمان پر فرض ھے* *کالمکار: جاوید صدیقی*