8

سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی کو محکمہ صحت کا لیگل نوٹس، صحافتی تنظیموں سمیت کیمرامین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی شدید مذمت

سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی کو محکمہ صحت کا لیگل نوٹس، صحافتی تنظیموں سمیت کیمرامین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی شدید مذمت

سکھر(بیورورپورٹ سید نصیر حسین زیدی)محکمہ صحت سندھ کی جانب سے سکھر یونین آف جرنلسٹس (ایس یو جے) کے صدر جاوید جتوئی کو عوامی مفاد سے متعلق حساس موضوع ایچ آئی وی (HIV) ایڈز پر حقائق پر مبنی رپورٹ نشر کرنے کے بعد دھمکی آمیز لیگل نوٹس جاری کیے جانے پر صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس اور اس کی مجلس عاملہ نے اس اقدام کو آزادیِ صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایس یو جے کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکریٹری کامران شیخ، خازن شہزاد تابانی اور مجلس عاملہ کے دیگر اراکین کی جانب سے جاری مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز جیسے عوامی مفاد کے اہم مسئلے پر حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنا صحافیوں کی پیشہ ورانہ اور آئینی ذمہ داری ہے، مگر محکمہ صحت سندھ اپنی کارکردگی اور مبینہ کوتاہیوں پر جوابدہی سے بچنے کے لیے صحافیوں کو قانونی کارروائیوں اور دھمکی آمیز نوٹسز کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خبر کو سوشل میڈیا سے ہٹانے اور غیر مشروط معافی مانگنے جیسے مطالبات دراصل آزادیِ صحافت کو محدود کرنے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ صحافی برادری عوامی مفاد میں حقائق پر مبنی رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا انتقامی کارروائی سے مرعوب نہیں ہوگی۔ایس یو جے کی قیادت نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری اقدار اور آزادی اظہار کی داعی رہی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں محکمہ صحت کی جانب سے اختیار کیا گیا طرزِ عمل جمہوری روایات کے منافی دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ صحافی برادری نے ہر دور میں آمرانہ سوچ اور پابندیوں کے خلاف جدوجہد کی ہے اور جیلوں سمیت ہر قسم کی سختیاں برداشت کی ہیں، اس لیے حق اور سچ کی آواز کو دبانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔دوسری جانب کیمرامین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن سکھر کے صدر عمران شیخ، جنرل سیکریٹری بلاول احمد بھٹی، کفایت سمیجو، نعیم غوری اور دیگر عہدیداران نے بھی اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں جاوید جتوئی کو جاری کیے گئے لیگل نوٹس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر قدغن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں، کیمرامین اور فوٹو جرنلسٹس کا بنیادی فریضہ عوام تک درست اور حقائق پر مبنی معلومات پہنچانا ہے، اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی پر صحافیوں کو قانونی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور متعلقہ معاملات کی شفاف تحقیقات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے سکھر یونین آف جرنلسٹس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافتی برادری متحد ہے اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔سکھر یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ اور کیمرامین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، صحافیوں کے خلاف جاری کیا گیا لیگل نوٹس واپس کروائیں اور آزادیِ صحافت کے خلاف اقدامات کا سدباب کریں، بصورت دیگر صحافتی تنظیمیں اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج سمیت دیگر قانونی و جمہوری آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں