یومِ عرفہ کے روزے کی عظیم فضیلت:
پیر 25 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
قرآنِ مجید، احادیثِ نبوی ﷺ اور آثارِ سلف کی روشنی میں ایک مدلل و مربوط مضمون
اسلام میں بعض ایام ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ انہی مبارک دنوں میں ذوالحجہ کی نویں تاریخ یعنی یومِ عرفہ بھی شامل ہے۔ یہ وہ عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں، مغفرتوں اور عنایات کا خاص نزول فرماتا ہے۔ حجاج کرام میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں جبکہ دنیا بھر کے مسلمان روزہ، ذکر، دعا اور عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔
یومِ عرفہ کا روزہ ایسا عظیم عمل ہے جس کی فضیلت خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی اور امت کو اس کی ترغیب دی۔
*یومِ عرفہ کیا ہے؟*
یومِ عرفہ ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو کہا جاتا ہے۔ اسی دن حج کا سب سے بڑا رکن “وقوفِ عرفہ” ادا کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الحج عرفة»
“حج تو عرفہ ہی ہے۔”
(سنن ترمزی و نسائی)
یعنی جو شخص وقوفِ عرفہ پا لے اس نے حج کا اصل رکن پا لیا۔
*قرآنِ مجید میں یومِ عرفہ کی فضیلت*
اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی قسم کھائی:
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾
“قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔(سورۃ الفجر:1-2)
اکثرمفسرین مثلاً حضرت ابن عباسؓ، امام طبریؒ اور امام ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ ان “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، جن میں یومِ عرفہ سب سے عظیم دنوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ﴾
“اور وہ مقررہ دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں۔”(الحج: 2)
صحابہ کرامؓ اور مفسرین نے ان “معلوم دنوں” سے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن مراد لیے ہیں۔
*یومِ عرفہ کے روزے کی عظیم فضیلت*
حضرت ابو قتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»
“مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ کتنی عظیم بشارت ہے کہ صرف ایک دن کا نفلی روزہ دو سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔
*کن لوگوں کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ مشروع ہے؟*
غیر حاجیوں کے لیے:
جو لوگ حج پر نہ ہوں ان کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا انتہائی افضل، باعثِ اجر اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔
حضرت امام نوویؒ فرماتے ہیں:
“غیر حاجی کے لیے یومِ عرفہ کا روزہ مستحبِ مؤکد ہے۔”
شرح صحیح مسلم
حجاج کرام کے لیے:
جو لوگ میدانِ عرفات میں حج ادا کر رہے ہوں ان کے لیے روزہ نہ رکھنا افضل ہے تاکہ وہ ذکر، دعا اور عبادت میں قوت محسوس کریں۔
حضرت ام الفضلؓ فرماتی ہیں کہ لوگوں کو شک ہوا کہ نبی کریم ﷺ عرفہ کے دن روزے سے ہیں یا نہیں، تو میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں دودھ بھیجا اور آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا۔
(صحیح بخاری، مسلم)
*یومِ عرفہ: مغفرت اور جہنم سے آزادی کا دن*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا۔”
(صحیح مسلم)
اسی دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے۔ یہ دن دعا، توبہ، استغفار او اللہ کی طرف رجوع کا عظیم موقع ہے۔
یومِ عرفہ کی بہترین دعاء:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ»
“سب سے بہترین دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔”(ترمذی)
اور آپ ﷺ اس دن کثرت سے یہ کلمات پڑھتے تھے:
«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير.
سلف صالحین کا معمول:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر اکابر صحابہؓ یومِ عرفہ کی بڑی تعظیم فرماتے، ذکر و دعا میں مشغول رہتے اور لوگوں کو عبادت کی ترغیب دیتے تھے۔ ائمۂ امت نے بھی اس دن کے روزے کو عظیم عبادت قرار دیا ہے۔
*یومِ عرفہ کے دن کرنے کے اعمال*
روزہ رکھنا, کثرت سے توبہ و استغفار, ذکر و تسبیح تکبیرات پڑھنا, درود شریف کی کثرت, قرآنِ مجید کی تلاوت, دعا اور مناجات
صدقہ و خیرات, والدین اور اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک.
عوام الناس کے لیے اہم پیغام:
افسوس کہ بہت سے مسلمان اس عظیم دن کی قدر نہیں کرتے، حالانکہ یہ صرف ایک دن کا روزہ ہے مگر اس کا اجر بے حد عظیم ہے۔ دنیا کے کام، تجارت، مصروفیات اور غفلت ہمیں اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں سے محروم نہ کر دیں۔
کون جانتا ہے اگلا یومِ عرفہ ہماری زندگی میں آئے یا نہ آئے؟
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ:
خود بھی روزہ رکھیں
اپنے اہلِ خانہ کو بھی ترغیب دیں۔ دوستوں اور عزیزوں کو بھی اس عظیم عبادت کی یاد دہانی کرائیں۔
حاصل کلام:
یومِ عرفہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور بخشش کا عظیم دن ہے۔ اس دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جہنم سے آزادی نصیب ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس دن کو عبادت، روزہ، دعا اور ذکرِ الٰہی کے ساتھ گزارتے ہیں۔
الدعاء:
اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عرفہ کی قدر کرنے، اخلاص کے ساتھ روزہ رکھنے اور اس دن کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333